50

کیا سیاست میں سکون آیا؟

بہت پہلے عرض کیا تھا کہ پیپلز پارٹی استعفے نہیں دے گی۔ ابھی اگرچہ اس معاملے پر غور کیلئے وقت مانگا ہے لیکن اس کے قوی امکانات ہیں کہ یہ محض اتمامِ حجت ہے۔ پی ڈی ایم جتنا بھی انتظار کر لے آخر کار پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے نکل جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کی وجہ سے بلا شبہ پی ڈی ایم کو نقصان تو ہوگا لیکن صرف اس بنا پر پی ڈی ایم کا خاتمہ نظر نہیں آتا بلکہ اس کے بعد شاید پی ڈی ایم جارحانہ رویہ اختیار کر لے۔

 جن دوستوں کا خیال ہے کہ اب سیاست میں سکون آیا تو ایسا نہیں ہے بلکہ جو نظر آ رہا ہے حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ آج پھر عرض ہے کہ ملکی سیاست میں مستقبل قریب میں کئی تبدیلیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں، اس پر آگے جا کر بات کرتے ہیں۔ فی الحال گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف زرداری کی تقریر اور اس پر وہاں موجود مریم نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر جماعتوں کے قائدین کا ردِ عمل ایسا ہی آنا تھا، جیسا کہ سب نے دیکھا۔

آج کل پاکستانی سیاست میں بڑی سرعت کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں لیکن آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم اجلاس سے خطاب میں جو کچھ کہا یہ اچانک نہیں تھا بلکہ یہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر کی جانے والی تقریر تھی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اب بھی آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ وہ سیاست کے ایسے کھلاڑی ہیں جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد اچانک ایسا پینترا بدلتے ہیں کہ مخالفین تو کیا، اپنے ساتھیوں کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔

 اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ہمارے ہاں موجودہ دور میں سیاست کا محور کیا ہے۔ اب سیاست سے دو تین بنیادی نکات کو نکال دیا گیا ہے۔ مثلاً اصولوں پر قائم رہنا، اخلاقیات کے اندر رہنا، سیاست کو عوام کی خدمت سمجھ کر اس کیلئے جدوجہد کرنا، ملک و قوم کیلئے قربانیاں دینا اور جماعتی منشور پر عمل درآمد کرنا بلکہ اب سیاست میں کئے گئے وعدوں پر یوٹرن لینا، قربانی دینے سے دور بھاگنا اور ذاتی و سیاسی مفادات کیلئے کسی بھی حد تک جانا جائز بلکہ دور جدید کے تقاضے سمجھنا سیاسی عقل مندی سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ موجودہ دور کے سیاست دان کر چکے ہیں۔

 البتہ آصف زرداری نے مزید جدت کے ساتھ سیاسی داؤ پیچ کھیل کر مفادات کے حصول کی کوشش کی ہے، انہوں نے جس مہارت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی قیادت حاصل کی اور پاکستانی سیاست میں جو مقام اور عہدے حاصل کئے یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اور وہی کچھ اب بھی کیا جو انہوں نے میاں نواز شریف کےساتھ مری معاہدہ کرنے کے بعد کیا تھا۔ 

ان کو یہ گُر معلوم ہےکہ کس کو کیسے اور کب سے کب تک استعمال کرنا ہے البتہ میاں نواز شریف کو یہ گُر معلوم نہیں ہے، ان کو صرف یہ پتہ ہے کہ کسی بھی طرح اقتدارحاصل کیا جائے۔ بہر حال آصف علی زرداری کا پی ڈی ایم اجلاس سے حالیہ خطاب بہت پہلے سے تیار کردہ بلکہ طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ شاید ان کا پی ڈی ایم اجلاس سے آخری خطاب ہو۔

 اگرچہ وہ بہت سجھدار اور مہارت سے کھیلنے والے سیاست دان ہیں اور انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر ایسے سمجھوتے اور فیصلے کئے ہوں گے لیکن کبھی کبھی بازی الٹ جاتی ہے اور تدبیریں تقدیر کے مقابلے میں ہا ر جاتی ہیں۔ شاید ان کو وقتی طور پر ایسا کرنا منافع بخش نظر آتا ہو لیکن یہ غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے اور کیا پتہ جلد ان کو احساس بھی ہو جائے کیونکہ آنے والے وقت میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے، کمی نظر نہیں آ رہی۔

سیاست میں جس تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں یہ نہ حکومت کو سمجھ آتی ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ایک دن حکومت کی جیت ہوتی ہے تو دوسرے دن اپوزیشن کی۔سیاسی تجزیہ کار بھی حیران ہیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ دوسری طرف حکومت نے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر کے اس ادارے کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ شاید حکومت کو الیکشن کمیشن کے حالیہ اقدامات اور فیصلوں سے زیادہ آنے والے فیصلوں کا اندازہ ہے۔ 

آئینی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن کے خلاف یا تو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے یا الیکشن کمیشن کے قوانین اور ڈھانچہ کے بارے میں پارلیمنٹ کے ذریعے آئین میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں لیکن دونوں صورتوں میں ماہرین کے مطابق حکومتی موقف کمزور ہے اور شاید یہ صرف میڈیا ٹرائل تک ہی محدود رہے۔

حکومت اور اپوزیشن کی دھینگا مشتی میں عوام کے مسائل کہیں دور چلے گئے ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سالِ رواں میں بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافے کا امکان ہے جس کے اثرات ملک میں ناقابلِ برداشت مہنگائی کی صورت میں نظر آئیں گے با الفاظ دیگر ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ اور آخر کار دونوں فریق اس جاری لڑائی میں ہارنے والے ہیں۔

 وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں، اپوزیشن اور کچھ حکومتی لوگوں کی گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ جے یو آئی کے بعض اہم افراد گرفتار ہوسکتے ہیں اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ علم الاعداد کے مطابق ملکی نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔ نیا نظام اور نئےچہرے سامنے آ سکتے ہیں۔ جس کے بعد ملک میں سیاسی سکون، کاروبار، زراعت اور دیگر شعبوں میں بے پناہ ملکی ترقی نظر

ماخذ; جیو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں