62

سعودی عرب کی حمایت کیوں؟

امریکہ کی حفیہ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں واضح طور پر سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔جس کے بعد امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ نے 76سعودی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

 اعلان کے مطابق سعودی حکومت کے ہر افسران مبینہ طور پر اس قتل کے ذمہدار پائے گئے ہیں۔ادھر پاکستان نے خاشقجی قتل رپورٹ پر سعودی عرب کی حمایت کی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور ہے اس کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دینا پاکستان کے لیے مناسب ہوگا؟

ہمارے ہاں آج تک بین الاقوامی تعلقات کی روح سے انکار کیا جاتا ہے۔ دنیا میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن۔مفادات صدابھار ہوتے ہیں۔ بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقم کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔پاکستان کی مجبوری ڈالر کی شکل میں بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلات زر ہیں۔

گزشتہ 7 مہینوں سے بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ماہانہ اوسطا 2 ارب ڈالر سے زائد ہوگئی ہیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں جولائی سے جنوری تک 24.9 فیصد ریکارڈ اضافے سے 14.2 ارب ڈالر ہوچکی ہیں۔

ملکی ترسیلات زر کا 60 فیصد صرف دو ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب عمارات سے موصول ہوا ہے۔ جس میں جولائی سے دسمبر 2020 تک سعودی عرب سے 4 ارب ڈالر شامل ہیں جبکہ دیگر خلیجی ریاستوں بحرین ،کویت،اومان اور قطر سے مجموعی طور پر 1.2ارب ڈالر موصول ہوئے۔اسی طرح برطانیہ سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں ریکارڈ 51.7 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 1.88ارب ڈالر تک پہنچ گئ ہیں جبکہ یورپی یونین سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 41.7 اضافہ سے 1.29 ارب ڈالر اور امریکہ سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 47.5 فیصد اضافے سے 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے 6 مہینوں میں ترسیکات زر 24.2 فیصد اضافے سے ایکارڈ 14.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافے کی بڑی وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا بینکنگ چینل کےذریعے ترسیلات زر بھیجنا ہے ۔

اس سے پہلے ترسیلات زر کی خطیر رقم ہنڈی یا حوالے کے ذریعے بھیجی جاتی تھی لیکن اسٹیٹ بینک کے ترسیلاتزر کے اجراء سے اب اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بینکنگ چینل کے زریعے رقم بھیجنا نہایت آسان ہوگیا ہے۔جس کی تفصیل میں نے اپنے گزشتہ کالم میں قارئین سے شیئر کی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ صرف 5 مہینوں میں 86 ہزار روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 550 ملین ڈالر سے زائد کی رقوم آئی ہیں جو ملکی زرمبادلہ کے زخائر میں اضافے میں مدد دیں گی۔

پاکستان کے تقریبا 9 ملین افراد روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہیں۔ اگر ان میں سے ادھے لوگ بھی روشن پاکستان ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولیں تو زرمبادلہ کی مد میں بہت رقم ان اکاؤنٹس میں آسکتی ہے۔ میں نے گورنر اسٹیٹ بینک کو بتایا کہ ایک عرصے کے بعد بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں نے پاکستان میں اپنی جمع پونجی فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھ کر حکومت پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے اور اب یہ حکومت کی ذمہداری ہے کہ وہ اس اعتماد کو قائم رکھے۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی “ایشیاء پیسفک رپورٹ 2019” کے مطابق ،پاکستان 2018 میں ترسیلات زروصول کرنے والے دنیا کے 5 بڑے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔جن میں بھارت 78.6ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ چین 67.4 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے فلپائن 33.8 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے تیسرے جبکہ پاکستان 21 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے اور ویتنام 15.9 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔سعودی عرب سے برادرانہ تعلقات کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر کا بھی تعلق ہے اور پاکستان کسی بھی قیمت پر سعودی عرب سے تعلقات خراب نہیں کر سکتا۔خاص طور پر موجودہ حالات میں پاکستان مالی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہے ۔

آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینا مجبوری بن چکی ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے قرضے اس کی شرائط پر حاصل کئے ہیں اور ملک پر بیرونی قرضے بڑھ کر 113 ارب ڈالر تک پہنچ گے ہیں ۔ ان حالات میں سعودی عرب کی مخالفت کسی حوالے سے مناسب نہیں تھی۔

ذریعہ: جی این این  ٹی وی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں