176

عجمان میں پھنسے پاکستانی انجینیئر: ’ساری تنخواہ لے لو مگر پاکستان واپسی کا ویزہ دے دو‘

ارمغان حیدر کی بہن اپنے نکاح کی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر چکی تھیں جبکہ ان کے دوست عبداللہ مختار کی بہن بھی بضد تھیں کہ اپنے اکلوتے بھائی اور بہترین دوست کی غیر موجودگی میں وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم ترین دن پر کیسے خوش ہو سکتی ہیں۔

ارمغان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا، اس لیے انھوں نے اپنی بہن کو ایک جھوٹا ٹکٹ دکھایا اور کہا کہ وہ اگلے ہی روز پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ دوسری طرف عبداللہ اپنی بہن کی شادی میں ویڈیو کال کے ذریعے ہی شریک ہو سکے اور ان کی بہن ان سے کہہ رہی تھیں کہ ’بھلے ساری دنیا اس شادی میں شرکت نہ کرتی مگر (کاش) تم ضرور موجود ہوتے۔‘

یہ دو نوجوان انجینیئرز پاکستانی عبداللہ مختار اور ارمغان حیدر متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان کی بندرگاہ پر گذشتہ کئی مہینوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور عجمان نے کورونا کی وجہ سے پاکستانیوں پر ویزہ کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ اور ارمغان کو پاکستان واپسی کے لیے ٹرانزٹ ویزہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سے ہماری ساری تنخواہ لے لو مگر پاکستان واپسی کا ٹرانزٹ ویزہ دے دو۔’

ذریعہ: بی بی سی خبریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں