93

وفاقی حکومت کو ایک ہفتے میں کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے میں کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دے دیا اور کہا توقع ہے سنگل بینچ تمام معاملات 10دن میں نمٹا دے گا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کورونا ویکسین کی درآمد کیلئے نجی فارما کمپنیز کو اجازت دینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ۔

وکیل کمپنی نے بتایا کہ 2فروری کوڈریپ مخصوص شرائط پرویکسین درآمدکی اجازت دی گئی ، جس پر کمپنی نے10 لاکھ کورونا ویکسین منگوانے کا معاہدہ کیا۔

وکیل ڈریپ نے استدعا کی قیمت مقرر ہونے تک ویکسین اسپوتنک 5کی فروخت روکی جائے، کنسائنممنٹ ریلیزہوگیاتو کیس چلانےکافائدہ نہیں ہوگا، امپورٹر کو قیمت مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، قیمت مقرر کرنےکا اختیار حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔

وکیل فارماکمپنی نے کہا سنگل بینچ کےحکم کےباجود ہماری کنسائنمنٹ رکوادی گئی، ہم ڈریپ کے اقدام پرتوہین عدالت کی درخواست دائر کرچکے ہیں، جس پر جسٹس محمدعلی مظہر کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کی درخواست کی پرسوں سماعت ہوگی۔

عدالت نے وکیل ڈریپ سے مکالمے میں کہا توہین عدالت کیس میں اپنا موقف بتا دیجیے گا ، جب کیس سنگل بینچ میں زیر التواہے تو ہم کیسے فیصلہ کردیں ، عدالت

وکیل ڈریپ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کےاجلاس میں دوسری ویکسین کے قیمت مقرر کی جائےگی، جس پر وکیل فارماکمپنی نے کہا ہم 45 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں ، ہم ویکسین درآمدکرچکے ہیں ہم کیا کریں گے ؟

وکیل ڈریپ نے عدالت کو بتایا کہ یہ مرضی کی قیمت پر ویکسین فروخت کرنا چاہتے ہیں ، دوران سماعت ڈریپ اور نجی فارماکمپنی کے وکلا میں تکرار ہوئی۔

وکیل فارماکمپنی نے کہا پھر ہم پاکستان میں ویکسین درآمد ہی نہیں کرتے،ویکسین واپس لےجانے کی اجازت دے دیں، ہم نہیں بیچیں گے یہاں، جس پر عدالت نے ڈریپ وکیل سے مکالمے میں کہا بتائیں، ویکسین چاہیے یا نہیں؟

وکیل نجی کمپنی کا کہنا تھا کہ دھوکہ دے کرویکسین منگوا لی اب فروخت کرنے نہیں دے رہے، جس پر جسٹس امجد علی سہتو نے ڈریپ وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ادارہ کام نہیں کر رہا، کچھ تو کام کریں، انتظار کس کا ہے۔

جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس میں کہا دنیا میں ویکسین لگ رہی ہے، آپ کہاں ہیں؟ ایک سال ہوگیا کورونا ویکسین کو، قیمت مقرر کر رہے ہیں نہ ویکسین آنے دے رہے ہیں، کوئی ایک کام تو کریں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ڈریپ وکیل سےاستفسار کیا بتائیں ویکسین چاہیے یا نہیں، جس پر وکیل ڈریپ کا کہنا تھا کہ یہ بڑا فیصلہ ہے، مجھے مشورہ کرنے کی اجازت دیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے حم دیا کہ وفاقی حکومت کورونا ویکسین کی قیمت ایک ہفتے میں مقرر کرے، توقع ہے سنگل بینچ تمام معاملات 10دن میں نمٹا دے گا، اہم نوعیت کے معاملات ہیں جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے سنگل بینچ کے حکم کے خلاف ڈریپ کی اپیل نمٹا دی۔

خیال رہے سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نےڈریپ کا 18 مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کیا تھا ، ڈریپ نے 18 مارچ کونوٹی فکیشن کے ذریعے درآمد کا استثنیٰ واپس لیا تھا ، بعد ازاں ڈریپ کی جانب سے نجی کمپنیز کیلئے استثنیٰ واپس لینے کے سرکاری نوٹی فکیشن کی معطلی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ذریعہ: اے آر وائی نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں