78

کیا چین اور ایران کے مابین سرمایہ کاری کا منصوبہ خطے کے لیے ’سی پیک پلس‘ ثابت ہو گا؟

اگرچہ چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی 25 برس کے طویل اور جامع اقتصادی تعاون کے منصوبے پر امریکہ کا سرکاری رد عمل اب تک سامنے نہیں آیا تاہم تجزیہ نگار اس پیشرفت کو نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی اقتصادی نظام میں ایک اہم ’گیم چینجر‘ قرار دے رہے ہیں۔

اس معاملے پر گہری نظر رکھنے والے پاکستانی سفارت کار اور تجزیہ کار پاکستان میں پائی جانے والی عمومی بے چینی کہ اب چین ایران کا رخ کر رہا ہے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین اور ایران کا اقتصادی تعاون کا حالیہ معاہدہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کا متبادل نہیں ہو گا بلکہ اُس کو تقویت بخشے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں