93

سعودی عرب میں چالان کی اقسام اور ان کی ادائیگی کا آسان طریقہ کار

سعودی عرب میں نافذ العمل قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور خلاف ورزی کے مرتکب شہریوں کو چالان کی رقم ادا کرنا بھی لازمی ہوتا ہے۔

سعودی عرب میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مقامی اور غیرملکیوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جاتا ہے۔ اس خبر میں بنیادی طور پر رائج چالان کے نظام اور ادائیگی کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کسی کو اگر اپنے خلاف جرمانہ غلط لگے تو وہ اعتراض بھی دائر کرسکتا ہے۔

چالان کی اقسام اور ادائیگی کا طریقہ

مملکت میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر عموماً 100 سے 3000 ریال کا جرمانہ عائد ہوتا ہے، سگنل کی خلاف ورزی پرسب سے زیادہ چالان ہوتا ہے جو 3 ہزار ریال ہے، یہ چالان سڑک پر نصب کیمروں کی مدد سے خودکار طریقے سے ہوتا ہے جبکہ ٹریفک اہلکار بھی موقع پر چالان کرسکتا ہے۔

ٹریفک کے علاوہ چالان اقامہ ایکسپائر ہونے کی صورت میں لگتا ہے جس کی رقم پہلی مرتبہ 500 ریال ہوگی جبکہ دوسرے برس بھی اقامہ تجدید سے پہلے ایکسپائر ہوگیا تو جرمانے کی رقم 1 ہزار ریال مقرر کی گئی ہے جبکہ مسلسل تیسرے برس بھی اسی حرکت پر غیرملکی کو مملکت سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔

مذکورہ بالا صورت میں چالان کی ادائیگی شہروں میں قائم نجی اداروں میں ہوتی ہے جبکہ آن لائن اور بینک کے ذریعے بھی جرمانے ادا کیے جاتے ہیں، بینک اے ٹی ایم کے ذریعے بھی چالان کی ادائیگی ممکن ہے۔

جرمانے پر اعتراض

سعودی عرب میں مقیم کسی شہری کو شبہ ہو کہ اس کا چالان غلط ہوا ہے تو وہ ابشر ایپ کے ذریعے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے جس کے بعد متعلقہ ادارہ درخواست گزار سے دلائل طلب کرے گا۔ بعض اوقات سسٹم کی خرابی کے باعث خودکار طریقے سے غلط جرمانے بھی لگ جاتے ہیں۔

چالان کی ادائیگی

سعودی عرب میں غیرملکی اپنے اقامہ نمبر کے ذریعے تمام اداروں میں رجسٹرڈ ہوتا ہے، اگر چالان ادا نہ کیا جائے تو اقامے کی تجدید، خروج وعودہ اور خروج ونہائی ویزا بھی نہیں لگتا جس کے باعث مملکت چھوڑ کر جانا ممکن نہیں، مطلوبہ رقم ادا نہ کرنے پر فائل سیز بھی کردی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں ان دنوں کوروناوائرس کی ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر بھی جرمانے ہورہے ہیں۔

ذریعہ: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں