1,139

جلیب الشویخ ایک بار پھر حکام کی نظروں

کویت: جلیب الشویخ میں بھیڑ اور دیگر مسائل صحت کی تباہ کاریوں کا سبب بن رہے ہیں: میڈیا رپورٹ

جلیب الشویخ میں بھیڑ اور دیگر مسائل صحت کی تباہ کاریوں کا سبب بن گئے۔

جلیب الشویخ کو ملک کے سب سے ہجوم والے علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں تارکین وطن کی کثیر تعداد رہائش پذیر ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔

کویت کے میڈیا چینل روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق جلیب الشویخ متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کے لئے اب دائمی درد سر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس علاقے کے بڑھتے مسائل پر میڈیا کے بار بار اسپاٹ لائٹ کے باوجود بھی یہ علاقہ قانون کے دائرے سے باہر ہے۔ اس علاقے کے حالات میں اصلاحات اور جاری شدہ خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لئے ایک سرکاری کمیٹی کے قیام کے نتیجے میں کچھ بھی قابل ذکر نتیجہ منظر عام پر نہیں آیا۔ وہ تمام اقدامات جو کئے گئے صرف چند ہفتوں کے لئے ہی موثر تھے۔

روزنامہ القبس نے حال ہی میں اس علاقے کا دورہ کیا اور بھیڑ اور ہجوم کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے معلومات حاصل کی جس کے لئے اگر متعلقہ حکام نے فوری کارروائی نہ کی تو صحت کی تباہ کاریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ جلیب الشویخ کے بیشتر حصوں اور گھروں کو آس پاس ہر سمت اور اطراف سے عارضی طور پر اسٹالز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جلیب الشیوخ کے علاقے کا منظر حیران کن ہے کیونکہ یہاں ایسے مراکز موجود ہیں جہاں گینگ جمع ہوتے ہیں اور بازار جانے والوں اور فروشوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سیکیورٹی عہدیداروں یا بلدیہ عہدیداروں کی کڑی نگرانی کرنے میں چوکس رہتے ہیں۔ پولیس اور بلدیہ عہدیداروں کی گرفتاری سے بچنے کے لئے یہ گینگز دکانداروں اور گراہکوں کو اپنا سامان چھپانے اور موقع سے فرار ہونے کے لئے خبردار کرتے ہیں۔

جلیب الشیوخ کا علاقہ لوگوں کی کثافت کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں کے رہائشی صحت سے متعلق ضروریات جیسے سماجی فاصلہ قائم رکھنا ، چہرے پر ماسک پہننے پر بلکل عمل نہیں کرتے خاص طور پر اوپن ایئر مارکیٹ میں بغیر احتیاطی تدابیر پر عمل کئے بغیر جمع ہوجاتے ہیں۔ جلیب الشیوخ کے علاقے کی مقبول منڈیوں کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں ان بازاروں کے مختلف حصوں میں سبزیاں و پھل، استعمال شدہ کپڑے اور دیگر سامان بیچا جاتا ہیں۔

تمام قومیتوں کے لوگ خرید و فروخت میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ معاملہ اب کسی خاص گروہ تک محدود نہیں رہا ہے تاہم سب سے خطرناک پہلو نامعلوم ذرائع سے سامان کی تجارت ہے یا وہ جو انسانی استعمال یا استعمال کے لئے موزوں نہیں ہیں۔

جلیب الشیوخ کے علاقے کی تقریبا تمام داخلی گلیوں کو سبزیوں ، پھلوں ، مچھلیوں اور ڈبے والے کھانے کی اشیاء کم قیمت پر فروخت کرنے والے اسٹالوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گاڑیوں کو ایسی سڑکیں استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ نیز کھلے میدانوں خاص طور پر بینکوں کے پیچھے اور مرکزی سپر مارکیٹ کے ساتھ کپڑے ، جوتے اور بہت کچھ بیچنے کے لئے ان علاقوں کو چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

اس علاقے کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سستی قیمتوں پر پیش کیے جانے والے مواد کی تنوع ، کپڑے سے شروع ہوتی ہے جس کے بیچنے والے کا دعوی ہوتا ہے کہ یہ چیزیں “الحرج” مارکیٹ سے تھوک کے حساب سے خریدی گئی ہیں اور پھر کم قیمتوں جیسے 1 یا 2 دینار کے درمیان فی پیس بیچ دی جاتی ہیں۔

جوتے کی قسم اور معیار کے مطابق جوتے 500 فلس سے لیکر 5 دینار کی درمیانی قیمتوں پر بھی فروخت ہوتے ہیں۔ فروخت سے پہلے ان جوتوں کی علاقے میں موجود موچی کے ذریعہ صفائی اور مرمت کروائی جاتی ہے نیز تمام اقسام کی اشیاء 500 فلس سے 5 دینار تک فروخت کردی جاتی ہیں اور رہائشی باخوشی ان اشیاء کو خریدتے ہیں اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے جس کے خلاف اب تک تمام اقدامات بےسود ہی ثابت ہوئے ہیں۔

ذرائع : عرب ٹائمز ۔ کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں