210

وزارتِ خارجہ کا سعودی عرب میں‌ تعینات پاکستانی سفارت کاروں کے خلاف ایکشن

دبئی: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کی شکایات کے بعد سفارت کاروں کو وطن واپس بلا لیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب میں پاکستانی سفارت کاروں کی شکایات ملی تھیں، پاکستانی شہریوں کی شکایت پر مذکورہ سفارت کاروں کو وطن واپس بلا لیا ہے‘۔

وفاقی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ’اگر کسی اور ملک سے سفارت کاروں کی شکایت ملی تو انہیں بھی وطن واپس بلا لیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی تین روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں، اس دورے میں وہ یو اے ای حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے اعزاز میں پاکستان بزنس کونسل دبئی کی جانب سے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں آمد پر کونسل کے صدر اور دیگر عہدیداروں نے وزیرخارجہ کا پرتپاک استقبال کیا، جس پر شاہ محمود قریشی نے میزبانوں کا شکریہ ادا  بھی کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان معاشی سفارت کاری کو بروئےکار لا رہا ہے، جس کے تحت دنیا کی توجہ پاکستان میں کثیرکاروباری مواقعوں پر مبذول کرائی جارہی ہے، وبائی صورتحال کے باوجود معاشی سفارت کاری کے مثبت نتائج مل رہے ہیں، یواےای کے ساتھ کثیرالجہتی، تجارتی تعلقات میں روز بروز بہتری آرہی ہے‘۔

اُن کا کہنا تھاکہ ’یو اے ای دورےکا مقصد کثیر الجہتی شعبہ جات میں تجارتی روابط  اور تعاون کا فروغ ہے، خوشی ہے پاکستانیوں کی  کثیر تعداد متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے، پاکستانی کمیونٹی محنت و لگن سے تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کررہی ہے‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’اوور سیز پاکستانیوں کی فلاح وبہبود اور اُن کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے‘۔

وزیر خارجہ نے پرتپاک خیر مقدم اور افطار ڈنر کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ عشائیے میں پاکستانی سفیر افضال محمود، قونصل جنرل دبئی احمد امجد علی اور سفارتخانے کے سینئر افسران بھی شریک تھے۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی موجودگی کے بعد مختلف قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔ جس پر دفتر خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیرخارجہ کی بھارتی ہم منصب سےملاقات شیڈول نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے’۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں