127

وفاقی وزیر خزانہ کی وارننگ

وفاقی وزیر خزانہ نے لگی لپٹی رکھے اور الفاظ چبائے بغیر زہریلے ترین حقائق بیان کردیئے ہیں۔ ارشادات اقتصادیہ پر غور فرمایئے۔ ’’معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا‘‘’’ٹیرف میں اضافہ سے کرپشن بڑھ رہی ہے‘‘’’جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد تک نہ لے گئے تو چار سال تک ملک کا اﷲ حافظ‘‘’’مالیاتی ادارے نے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی‘‘

میرے قارئین کی اکثریت کو یاد ہوگا کہ گزشتہ انتخابات سے پہلے ہی میں نے اس بات کی تکرار شروع کردی تھی جو بہت دیر تک جاری رہی کہ اس ملک کے اقتصادی برتن کا پیندا کھایا جا چکا ہے اور اب اس میں سمندر بھی ڈالو گے تو یہ بھانڈا خالی کا خالی ہی رہے گا۔

چلو بہت دیر سے ہی سہی کسی نے اس کا اعتراف تو کیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اعتراف، علاج کا متبادل نہیں ہوتا اور جو ’’علاج‘‘ تجویز کیے گئے وہ شاید فاقے کو افاقے میں تبدیل نہ کرسکیں جس کی ایک وجہ ادھوری اور کچ پکی تشخیص ہے۔

جہاں تک تعلق ہے کرپشن کا تویہ قیام پاکستان کے وقت ہی ’’جعلی کلیموں‘‘ کی شکل میں شروع ہو کر باقاعدہ فائن آرٹس کا درجہ پا گئی۔ یہ تو ہوگئی مالی کرپشن کی ایجاد جبکہ اخلاقی کرپشن کا ظہور جعلی ذاتوں کی صورت میں ہوا جو بعد ازاں مختلف شکلوں میں ڈھلتا چلا گیا جس کی انتہا یہ کہ غلیظ اور مکروہ ترین جرائم کی خبریں رمضان کے ماہ مقدس میں بھی جاری ہیں۔

دوسری طرف یہ کہنا کہ مالیاتی ادارے نے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس زیادتی کے لئے پاکستان اس مالیاتی ادارے کے پاس گیا تھا یا وہ مالیاتی ادارہ خود چل کر پاکستان آیا؟ بھوکے بھیڑیئےیا زہریلے ناگ سے اٹھکھیلیاں کروگے تو بھرو گے۔

 کیا ہمیں یاد نہیں کہ آغاز سفر پر ہی چوہدری محمد علی جیسے شخص نے یہ وارننگ دے دی تھی کہ اگر پاکستان میں قرضہ کلچر پروان چڑھا تو وہ دن دور نہیں جب قرضہ ادا کرنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑے گا۔

یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہوگا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں قرضہ کوئی بری بات نہیں بشرطیکہ اٹھائی گیرے اور ٹھگ معاشی مدارالمہام اور پالیسی ساز نہ ہوں۔ قرض کی سائنس سمجھنے کے لئے ہم ہراری کی ایک مثال مستعار لیتے ہیں جس پر غور کرنا ضروری ہے۔

ایک عقل مند سرمایہ کار مسٹر گریڈی کیلی فورنیا میں ایک بینک قائم کرتا ہے۔ ایک ابھرتا ہوا ٹھیکیدار مسٹر سٹون اپنا ایک ٹھیکہ ختم کرکے تقریباً ایک ملین ڈالر وصول کرکے یہ رقم مسٹر گریڈی کے بینک میں جمع کرا دیتا ہے یعنی اب بینک کا سرمایہ ایک ملین ڈالر ہے۔

 اسی دوران ایک غریب باورچن ایک کاروباری موقع دیکھتی ہے کہ علاقہ میں کوئی بیکری نہیں لیکن اس کے پاس سرمایہ نہیں۔ باورچن بینک جا کر اپنا منصوبہ، آئیڈیا بینکر مسٹر گریڈی کو پیش کرتی ہے۔

بینکر قائل ہوکر اسے ایک ملین قرض دے دیتا ہے اور اب یہ باورچن بیکری بنانے کا ٹھیکہ اسی مسٹر سٹون کو دے دیتی ہے۔ جب وہ سٹون کو اپنے اکاؤنٹ سے ایک ملین کا چیک دیتی ہے تو ٹھیکے دار مسٹر سٹون اسے بھی گریڈی صاحب کے بینک میں جمع کرا دیتا ہے تو اب سٹون کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہوگئے؟

دو ملین ڈالر! منصوبے کے دوسرے مہینے میں ٹھیکے دار سٹون باورچن سے کہتا ہے کہ بیکری کی تعمیر و تکمیل کا تخمینہ دو ملین ڈالر ہوگا۔ باورچن بے چاری پھر بینک جاکر گریڈی صاحب کو مزید ایک ملین اضافی قرض کے لئے قائل کرتی ہے اور وہ اس کے اکاؤنٹ میں مزید ایک ملین جمع کرا دیتے ہیں اور وہ یہ رقم بھی ٹھیکے دار کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتی ہے۔

 اب ٹھیکے دار مسٹر سٹون کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہوگئے؟ 3ملین ڈالر …… لیکن بینک کے پاس کل رقم ہی ایک ملین ڈالر ہے جو شروع سے ہی بینک میں رہی ہے اور یاد رہے کہ موجودہ امریکی بینک قوانین اجازت دیتے ہیں کہ یہ گھماؤ پھراؤ یاتبادلہ مزید 7 بار بھی کیا جاسکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ قرضہ برا نہیں، سرتاپا کرپشن بھیانک ہے اور کیوں نہ ہو کہ یو این ڈی پی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 20 فیصد لوگ ملکی آمدن کے 50 فیصد پر قابض ہیں تو اس آدھا تیتر آدھا بٹیر معیشت پر نخوست نہ ہوگی تو کیا ہوگا؟ ہمارا اقتصادی ڈھانچہ نہ سرمایہ دارانہ ہے نہ غیر سرمایہ دارانہ، یہ صرف استحصالی اور بدمعاشانہ معاشی نظام ہے جس کے ’’جسم‘‘ میں جتنے مسام ہیں اتنے سٹرا ڈال کر مخصوص طبقہ اس ملک کے اقتصادی جسم کاخون پی رہا ہے۔

ایسے میں اس ملک کا اﷲ ہی حافظ نہ ہوگا تو کون ہوگا کہ کفر پہ قائم معاشرہ تو زندہ رہ سکتا ہے، ظلم پر قائم معاشرہ نہیں۔ بنیادی، جوہری تبدیلیوں کے علاوہ ہر علاج آرائشی، زیبائشی اور مصنوعی ہوگا۔

ذرائع: جیونیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں