158

کیا یو اے ای میں ویک اینڈ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے؟

سوشل میڈیا پرویک اینڈ جمعہ ہفتہ کی بجائے ہفتہ اتوار میں تبدیل کرنے کی خبروں پر اماراتی حکام نے بیان جاری کر دیا

متحدہ عرب امارات میں ویک اینڈ جمعہ اور ہفتہ کے روز ہوتا ہے ۔ ماضی میں ویک اینڈ جمعرات اور جمعہ کو ہوتا تھا، تاہم بین الاقوامی تجارت کے پیش نظر آج سے پندرہ سال پہلے ویک اینڈ بدل کر جمعہ اور ہفتہ کے روز مقرر کیا گیا تھا۔ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وام کے حوالے سے ایک خبر گردش کر رہی ہے جس کے مطابق اماراتی حکومت نے ویک اینڈ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اب دُنیا بھر کے بیشتر ممالک کی طرح ویک اینڈ ہفتہ اور اتوار کے روز ہو گا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ خبر بھی بہت زیادہ وائرل ہو چکی ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی چھُٹی اور اس دن کی حُرمت کے باعث ویک اینڈ کو بدلنا مناسب نہیں ہوگا۔https://imasdk.googleapis.com/js/core/bridge3.455.0_en.html#goog_1071499861

حکومت نے اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے تبدیل کر لینا چاہیے کیونکہ لوگ چھُٹی کی وجہ سے سکون اور تسلی سے جمعہ ادا کر سکتے ہیں۔تاہم کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاشی سرگرمیوں سے پوری طرح منسلک ہونے کے لیے یہ فیصلہ بہترین ثابت ہوگا۔ یہ بحث اپنی جگہ ، تاہم اماراتی حکومت نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس خبر پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر ویک اینڈ بدلنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبر سراسر بے بنیاد ہے۔اس طرح کی جھوٹی خبر پر یقین نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے شیئر کیا جائے۔ دوسری جانب ایمریٹس نیوز ایجنسی (WAM) کی جانب سے بھی تردید کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی ایجنسی کے نام سے وائرل ہونے والی خبر جعلی ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی کے ویک اینڈ کے حوالے سے کوئی خبر پوسٹ نہیں کی ہے۔ وام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد جلال الرئیسی کا کہنا ہے کہ حکومت نے وام کے ذریعے ویک اینڈ سے متعلق کوئی خبر جاری نہیں کی ہے۔یہ خبر سراسر جعلی ہے۔ اس خبر کو شیئر نہ کیا جائے کیونکہ اب تک لاکھوں افراد اس جھوٹی خبر سے گمراہ ہو گئے ہیں۔ یہاں ایک بات بتاتے چلیں کہ 2006ء تک ویک اینڈ جمعہ اور جمعرات کا ہوتا تھا، تاہم مغربی دُنیا کے ساتھ کاروباری اوقات میں مطابقت لانے کی خاطر ویک اینڈ جمعہ اور ہفتہ میں بدل دیا گیا تھا۔ تاکہ غیر ملکی بزنس مین انٹرنیشنل مارکیٹ کے ساتھ اپنی کاروباری و تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اماراتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ اس جُرم میں ملوث فرد کو کم از کم ایک سال قید اور جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں