136

مزاحمتی تحریک ’حماس‘ کی اسرائیل کےخلاف جوابی کارروائی

غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے  قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جوابی وار کرتے ہوئے  اسرائیلی علاقوں میں راکٹ داغے ہیں جن میں شدت آ گئی ہے ، حماس نے اسرائیل کو وارننگ دی تھی کہ شام چھے بجے تک اپنی فوج مسجد اقصیٰ سے نکال لےورنہ میزائل حملے کیلئے تیار رہے۔

غیر ملکی میڈیا کےمطابق  فلسطین کی مزاحمتی تحریک’حماس‘نےمنگل کی شب تل ابیب کی جانب 130 راکٹ پھینکے ہیں جو اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے غزہ میں ایک 13 منزلہ رہائشی عمارت کو تباہ کرنے کاجواب ہے۔ حماس نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس سے سو کلومیٹر دور غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر میزائل داغے، حملے کے خوف سے اسرائیلی پارلیمنٹ کو خالی کروالیا گیا ہے۔حماس نے ٹینک شکن میزائل سے اسرائیلی فوج کی گاڑی بھی تباہ کر دی ہے۔

یاد رہے کہ حماس کی جانب سے پیر کی شب سے اب تک اسرائیلی علاقوں پر 400 سے زیادہ راکٹ پھینکے گئے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے غزہ میں 150 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری طرف مقبوضہ بیت المقدس میں  نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں شدت آگئی ہے  اور غزہ میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری سے 9 بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید اور سینکڑوں  زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر سے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم اور مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی جارہی ہے ۔برطانوی پارلیمنٹ کی رکن یاسمین قریشی نےا سرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم بورس جانسن سے معاملے پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن اس معاملے  کو اسرائیلی حکام کے سامنے اٹھائیں اور فوری طور پر فوج کے پُرتشدد واقعات کو رکوائیں۔

وینزویلا کے نائب وزیر خارجہ اور یورپ کےامور کے  نائب وزیر یووان  گل نے مسجد اقصی اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب لوگوں کی جمہوریت پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو وہ خود کو انسانی حقوق کے محافظ قرار دیتے ہیں ، اب وہ نسل کشی کے سلسلے میں خاموش ہیں۔میکسیکو کی وزارت خارجہ نے بھی مسجد اقصی اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے ۔دوسری طرف ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے عالمِ اسلام کے اہم ممالک کے وزراء خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے مسجد  اقصیٰ پر حملے، فلسطین کی تازہ ترین پیشرفت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ذرائع: ڈیلی پاکستان نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں