106

بین الاقوامی معاشی ماہرین کی پاکستان کے ایشین ٹائیگر بن جانے کی پیش گوئی

حکومت کی نئی معاشی پالیسی کے اثرات، کورونا کے باوجود پاکستان کی جی ڈی پی کی سالانہ شرح 6 فیصد تک پہنچ جانے کا امکان

 حکومت کی نئی معاشی پالیسی کے اثرات، کورونا کے باوجود پاکستان کی جی ڈی پی کی سالانہ شرح 6 فیصد تک پہنچ جانے کا امکان، بین الاقوامی معاشی ماہرین نے پاکستان کے ایشین ٹائیگر بن جانے کی پیش گوئی کر دی- تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معیشت ٹھوس بڑھوتری کی راہ پرگامزن ہے اور ملکی معیشت مشکل حالات کے باوجودآئندہ پانچ برسوں میں بڑھوتری کی کے اندازوں سے زیادہ ہونے کی استعداد کی حامل ہے۔یہ بات مشرق وسطیٰ کے معروف اخبار خلیج ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ اخبار نے حکومتی عہدیداروں، تجزیہ نگاروں اوراقتصادی ماہرین کے حوالہ سے کہا ہے کہ مضبوط اقتصادی اشاریوں کی بنیاد پرآئندہ پانچ برسوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی بڑھوتری کی سالانہ شرح 5 سے لیکرچھ فیصد ہونا ایک معمول کی بات ہوگی۔

گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ہماری معیشت آنیوالے برسوں میں تیز رفتاربڑھوتری کی استعداد رکھتی ہے، سٹیٹ بینک نے جاری مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد اورآنیوالے مالی سال میں 4 فیصد ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ پاکستان آنیوالے دوبرسوں میں 6 فیصد بڑھوتری کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کوویڈ 19 کی وبا میں تیزی آنے پر 6 ارب ڈالرمالیت کے قرضہ کیلئے سخت شرائط پردوبارہ مذاکرات پرآمادگی کااظہارکیاہے، وفاقی حکومت آئندہ مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 900 ارب روپے مختص کرے گی جس سے ترقی اورروزگارکے نئے مواقع پیداہوں گے۔اخبار کے مطابق”آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 4 فیصدتک رہنے کی پیشن گوئی کی ہے، گزشتہ مالی سال کے منفی 0.4 فیصدکے مقابلہ میں جاری مالی سال میں معیشت کی بڑھوتری کی شرح 1.5 فیصدسے زیادہ ہوگی“۔گورنرسٹیٹ بینک کے مطابق کوویڈ 19 سے پیداہونے والی مشکل صورتحال کے باوجود ہمارے اقتصادی اشارئے قوی ہے جوملکی معیشت کیلئے نیک شگون ہے۔حکومت نے کوویڈ 19 کے بحران کے اثرات کوکم کرنے کیلئے 2000 ارب روپے سے زیادہ معاونت کویقینی بنایاہے، کاروبارکوکیش کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ضروری معاونت فراہم کی گئی ہے جبکہ معاشرے کے معاشی طورپرکمزورطبقات کو نچلی سطح پرنقدامداد اورفنڈز کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عارضی اقتصادی معاونت سہولت کے تحت نجی شعبہ میں کو کیش کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے 450 ارب روپے کے آسان قرضہ جات دئیے گئے، اسی طرح نجی شعبہ کے ملازمین کے روزگارکے تحفظ کیلئے مزید240 ارب روپے کے قرضہ جات کی فراہمی عمل میں لائی گئی، اسی طرح سٹیٹ بینک نے مشکلات کے شکارکاروبار پر قرضوں کوموخرکرانے اورمارک اپ چارجز کے ضمن میں بینکوں کو900 ارب روپے کی فراہمی کی پیشکش کی ہے، ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوویڈ 19 کی عالمگیروبا سے پیداہونے والے بحران سے جلد باہرآنے میں کامیاب ہوئی۔گورنرسٹیٹ بینک نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہواہے، ڈالرکے مقابلہ میں روپیہ کی قدرترتیب میں آگئی ہے، حسابات جاریہ کے کھاتوں کے توازن میں بہتری آئی، بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ ہوا،سیمینٹ، آٹوموبائل، اورصارفین کیلئے اشیا کی پیداواربڑھی ہے۔ ان اقتصادی اشاریوں سے واضح ہورہاہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اورآنیوالے برسوں میں معیشت بہترکارگردگی کامظاہرہ کرے گی۔پاکستان ان چندگنے چنے ممالک میں شامل ہے جہاں وباسے پیداہونے والے عالمگیرمعاشی بحران کے باوجود مالیاتی خسارہ کم ہواہے، جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح بدستورمستحکم ہے، مارکیٹ کی حرکیات پرمبنی ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ڈالرکے مقابلہ میں روپیہ کی قدرمیں توازن قائم ہواہے، اس وقت ڈالرکے مقابلہ میں روپیہ کی قدر153 روپے ہے، گزشتہ سال ڈالرکے مقابلہ میں روپیہ کی قدر168 روپے تھی۔حسابات جاریہ کے کھاتوں میں بہتری، پاکستان ریمیٹنسز انیشیٹو اورروشن ڈیجیٹل اکاونٹ جیسی سکیموں کی وجہ سے سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم 16 ارب ڈالرکے قریب پہنچ چکاہے۔ پاکستان کودرپیش اقتصادی چیلنجوں کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تخفیف غربت اوراشیا خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اہم مسائل ہے، ان پرقابوپاکرمعیشت میں حقیقی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔اخبارنے لکھاہے کہ حکومت کی جانب سے ملکی معیشت کے سدھارکیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی بزنس کمیونٹی پاکستان کی معیشت پراعتمادکررہی ہے۔ معروف کاروباری شخصیت اورسینیئرگلوبل ایگزیکٹوعرفان مصطفیٰ نے اخبارکوبتایاکہ پاکستان کی معیشت کی بڑھوتری کیلئے وسائل اوراستعدادموجودہے، معیشت آنیوالے برسوں میں لاکھوں لوگوں کوغربت سے نکالنے اورپاکستان کوعلاقائی اقتصادی طاقت بنانے کی استعدادکی حامل ہے۔ اس مقصدکے حصول کیلئے بطوراورسیز پاکستانی ہم دلجمعی کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیارہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں