211

اطالوی ملازمین کی غیرت جاگ گئی، اسرائیلی اسلحہ لوڈکرنے سے انکارکردیا

اسرائیل نے بربریت کی انتہا کر دی،سینکڑوں معصوموں کی جان لے لی

اسرائیل کی فلسطینی مسلمانوں کے خلاف بربریت دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی جس کے نتیجے میں کل شہداء کی تعداد 200 تک پہنچ گئی لیکن پھر بھی عالمی ضمیر نہ جاگ سکانہ تو ہیومن رائٹس این جی اوز نے کوئی مظاہرہ کیا اور نہ ہی کسی طاقتور ملک نے اسرائیل کو معصوم جانوں کے اِقتال سے باز رہنے کی تلقین کی۔تاہم اطالوی بندرگاہ کے ملازمین نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل جانے والے ہتھیاروں کولوڈ کرنے سے انکارکردیا۔غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نہتے شہریوں پر آگ برسانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے معصوم افراد کی لاشیں گررہی ہیں اور عمارتیں زمین بوس ہو رہی ہیں۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کی صبح بھی غزہ پر 10 منٹ تک مسلسل بمباری کی اور اس جارحیت کے نتیجے میں اب تک 55 بچوں اور 34 خواتین سمیت 200 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔معصوم فلسطینیوں کے قتل عام پرعالمی طاقتیں متواتر خاموش ہیں تاہم مختلف ممالک بشمول مغربی دنیا کے باضمیرلوگ بھی اسرائیل کے اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔اس حوالے سے کینیڈا کے شہرمونٹریال میں اسرائیل کے خلاف ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا جس پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے ٹوئٹرپر بیان دیا ہے کہ کینیڈا میں سب کو اپنے جذبات کے اظہارکا حق ہے۔امریکا کے شہرشکاگومیں بھی فلسطین کے حق میں عظیم الشان مظاہرہ ہوا جبکہ اسکاٹ لینڈ کے شہرگلیسگومیں بھی کم از کم 10 ہزار افراد نے اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔اطالوی بندرگاہ پر وہاں کے ملازمین نے نہ صرف اسرائیل جانے والا اسلحہ بحری جہاز میں لوڈ کرنے سے انکار کردیا بلکہ اسرائیلی جارحیت پر بینرز تھام کربھرپوراحتجاج بھی کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اسرائیل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔دوسری جانب حماس نے بھی اسرائیل کے شہروں عسقلان اور اشدود پرراکٹ فائر کیے ہیں جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی مارے جاچکے ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں