185

غزہ سے آنے والے راکٹوں نے اسرائیل کو پاگل کر دیا

اسرائیل پر اب تک 1 ہزار راکٹس فائر ہو چکے، راکٹ حملوں کو روکنے کیلئے اسرائیل کا کروڑوں ڈالرز کا نقصان

غزہ سے آنے والے راکٹوں نے اسرائیل کو پاگل کر دیا، اسرائیل پر اب تک 1 ہزار راکٹس فائر ہو چکے، راکٹ حملوں کو روکنے کیلئے اسرائیل کا کروڑوں ڈالرز کا نقصان۔ تفصیلات کے مطابق ایک ترک خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل کا خودکار جدید دفاعی نظام آئرن ڈوم فلسطین سے آنے والے راکٹوں کو روکنے میں ناکام ہو رہا ہے۔فلسطین کے علاقے غزہ سے اب تک 1000 راکٹ اسرائیل پر فائر کیے جا چکے، اتنی بڑی تعداد میں راکٹ حملوں کو روکنے کیلئے اسرائیل کو بڑی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ ایک راکٹ حملے کو روکنے کیلئے دفاعی نظام آئرن ڈوم کا 1 ہی راکٹ استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بربریت تاحال جاری ہے، اسرائیل کے متعدد فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 5 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے، اسرائیلی بمباری سےمرنےوالوں میں 58 بچےاور34 عورتیں بھی شامل ہیں۔ عرب میڈیاکے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کم از کم 70 فضائی حملے کیے گئے اورشہری آبادیوں پربمباری کی ۔ یہ 2014ء میں ہونے والے بمباری کے بعد غزہ کا سب سے زیادہ شدید فضائی حملہ بتایا جاتا ہے۔ آج صبح کیے گئے حملوں کے اہداف میں فلسطینی سرزمین کے متعدد فوجی اورحفاظتی اڈے شامل تھے۔غزہ کے وسط میں 4 منزلہ عمارت پربھی بمباری کی گئی۔ ملبے سے کئی بچوں کی لاشیں نکالنے کے لرزہ خیز مناظر سامنے آئے، ایک بچی 24 گھنٹوں بعد زندہ نکال لی گئی۔ گزشتہ روزبھی رہائشی عمارتوں پرحملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں42 افرادشہید ہوئےتھے۔ واضح رہے کہ 10 مئی سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک 487 افراد زخمی اور ہزاروں بےگھر ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں میں تازہ جھڑپوں کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے وہاں بسنے والے چند فلسطینی خاندانوں کو بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں