90

سنگدل باپ نے دو بچیوں کو نہر میں پھینکنے کے بعد خود بھی چھلانگ لگا دی

اہل علاقہ نے تینوں کی جان بچا لی،بھیک مانگ کر گزارہ کرتا ہوں ،گھریلو ناچاقی پر بچیوں کو نہر میں پھینکنے کے بعد خود کو بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔سنگدل باپ کا بیان

سنگدل باپ نے دو بچیوں کو نہر میں پھینکنے کے بعد خود بھی چھلانگ لگا دی۔پولیس کے مطابق فاضل شاہ کے علاقے میں سنگدل باپ قربان کھوکھر نے اپنی دو کمسن بچیوں کو نہر میں پھینک دیا اور خود بھی نہر میں چھلانگ لگا دی۔اہل علاقہ نے بروقت پہنچ کر دونوں بچیوں اور ان کے باپ کو نہر سے نکال لیا۔بچیوں کو موت کے منہ میں جھونکنے والے باپ کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ بھی مانگ کر گزارہ کرتا ہے گھریلو ناچاقی پر بچیوں کو نہر میں پھینکنے کے بعد خود کو بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔چند دن قبل ایسے ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں ملزم محسن نے گھریلو جھگڑے پر 23 اپریل کو ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کو نہر میں پھینکا تھا، بچوں میں سات سالہ ذوالقرنین،چار سالہ حوریہ، دو سالہ نمرہ اور ایک سالہ عروہ شامل ہیں۔بھکھی پولیس نے بچوں کی ماں مصباح کی درخواست پر ملزم محسن کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔دوسری جانب ق فیصل آباد میں چار بچوں کو مبینہ طور پر نہر میں پھینکنے والے ملزم محسن کے بھائی نے واقعے کی وجہ غربت یا بے روزگاری ہونے کی تردید کر دی ہے۔ سنگدل باپ کے بھائی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا اس نے حال ہی میں زمین فروخت کی تھی جس کی رقم بھی اسی کے پاس تھی۔احسن کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی کو مالی پریشانی نہیں تھی نہ ہی بے روزگار تھا،بچوں کے عید کے کپڑے بھی بنا رکھے تھے ،میاں بیوی میں اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ونوں میں 23 اپریل کو بھی لڑائی ہوئی جس کے بعد شوہر نے بیوی کو گھر سے باہر نکال دیا۔خاتون کے مطابق اسے کل ہی پتہ چلا ہے کہ جس دن مجھے گھر سے نکالا اسی دن بچوں کو نہر میں پھینک دیا تھا۔

ذرائع: اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں