215

جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل پاگل ہوگیا، معصوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کے بعد اب عرب اسلامی ملک پر بمباری شروع کر دی

اسرائیلی فوج نے راکٹ حملوں کا الزام عائد کر کے لبنان کے جنوبی علاقے پر 22 گولے داغ دیے، ایک ہفتے کے دوران لبنان اور اسرائیل کے درمیان گولہ باری کو دوسرا واقعہ

اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کے بعد اب عرب اسلامی ملک پر بمباری شروع کر دی۔ تفصیلات کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل پاگل ہوگیا ہے۔ اسرائیل ایک جانب معصوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے میں مصروف ہے، تو دوسری جانب ایک نیا محاذ کھول کر عرب اسلامی ملک لبنان کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے راکٹ حملوں کا الزام عائد کر کے لبنان کے جنوبی علاقے پر 22 گولے داغ دیے، یہ ایک ہفتے کے دوران لبنان اور اسرائیل کے درمیان گولہ باری کو دوسرا واقعہ ہے۔ تاہم اسرائیل کی حالیہ گوری باری کے نتیجے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب اسرائیل کے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں قطری ٹی وی کے بعد قطری ہلال احمر پر بھی حملہ کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں 2 فلسطینی شہید جبکہ 10 زخمی ہوگئے۔قبل ازیں اسرائیل نے بمباری کرکے فلسطینی وزارت اوقاف کی عمارت بھی تباہ کردی تھی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے کم از کم 70 حملے کئے۔واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بمباری کی جارہی ہے جس میں اب تک تقریباً 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ 10 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔عرب میڈیاکے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کم از کم 70 فضائی حملے کیے گئے اورشہری آبادیوں پربمباری کی گئی ۔ یہ 2014ء میں ہونے والے بمباری کے بعد غزہ کا سب سے زیادہ شدید فضائی حملہ بتایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز حملوں کے اہداف میں فلسطینی سرزمین کے متعدد فوجی اورحفاظتی اڈے شامل تھے۔ غزہ کے وسط میں 4 منزلہ عمارت پربھی بمباری کی گئی۔ ملبے سے کئی بچوں کی لاشیں نکالنے کے لرزہ خیز مناظر سامنے آئے، ایک بچی 24 گھنٹوں بعد زندہ نکال لی گئی۔عید کے ایام میں بھی رہائشی عمارتوں پرحملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں42 افرادشہید ہوئےتھے۔ واضح رہے کہ 10 مئی سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں میں تازہ جھڑپوں کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے وہاں بسنے والے چند فلسطینی خاندانوں کو بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں