63

ایک اور فلسطینی صحافی اسرائیلی بمباری میں شہید

فلسطینیوں کے خون کی پیاسی اسرائیلی فوج نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے اور وحشیانہ حملوں سے ‏ہونے والی تباہی کو دنیا سے چھپانے کے لیے صحافیوں، میڈیا ورکرز اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ ‏اداروں کے خلاف حملے تیز کر دیے۔

انٹرنیشنل میڈیا، نیوز ایجنسیز اور مقامی ذرائع ابلاغ کی عمارتوں کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل نے ‏مقامی ریڈیو سے وابستہ نوجوان صحافی کو گھر پر بم برسا کر شہید کر دیا۔

اسرائیلی جیٹ طیاروں نے بدھ کی صبح شیخ ردوان کے علاقے میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کی ‏جس کے نتیجے میں چار افراد شہید ہوگئے جن میں ایک صحافی بھی شامل تھے۔

اہل خانہ کے مطابق یوسف ابو حسین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ فیملی کے ساتھ گھر پر ‏موجود تھے۔ گھر پر ایک سے زائد بموں سے حملہ کیا گیا۔

شہید کے والد محمد ابو حسین نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ بھی گھر پر موجود تھے لیکن وہ ‏کسی طرح بچ گئے تاہم ان کا بیٹا حملے میں شہید ہوگیا۔

یوسف ابو حسین مقامی براڈ کاسٹ الاقصیٰ ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ تھے اور عرصہ دراز سے ‏پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے تھے۔ الاقصیٰ ریڈیو اسٹیشن نے اپنے کارکن کی شہادت کی دکھ ‏بھری خبر سناتے ہوئے بتایا کہ افسوسناک حملے میں وہ اپنے ایک دیرینہ ساتھی سے محروم ہوگئے ‏ہیں۔

فلسطین میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری 10 روز سے جاری ہے ،غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ ‏میں آج صبح اسرائیلی فورسز کی رہائشی عمارت پر بمباری کی گئی ، جس کے نتیجے میں 3فلسطینی ‏شہید ہوگئے۔

غزہ میں بمباری سے 3مساجد بھی شہید ہوگئیں اور 40مکانات تباہ ہوئے ، وزارت صحت کا کہنا ہے ‏کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت سے شہید افراد کی تعداد 219 ہوگئی ہے، جن میں 63 بچے اور ‏‏35 خواتین بھی شامل ہیں۔

یاد رہے اقوام متحدہ کے ادارے ’کوارڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز‘ کی ترجمان جینز لائرکے کہا ‏تھا کہ مقبوضہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 52 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوچکے ‏ہیں جن میں سے 47 ہزار افراد نے 58 یو این اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ذرائع: اے آر وائے نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں