91

ڈیانا کے تہلکہ خیز انٹرویو کی انکوائری رپورٹ جاری، بی بی سی کی دھوکے بازی پر شہزادے برہم

 نومبر 1995 میں لیڈی ڈیانا کے بی بی سی پر نشر ہونے والے متنازع اور دھماکا خیز انٹرویو کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق لیڈی ڈیانا کے متنازع انٹرویو کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے دھوکے سے شہزادی ڈیانا کا انٹرویو کیا، اس انٹرویو کو 2 کروڑ 28 لاکھ افراد نے دیکھا تھا، جس میں ڈیانا نے نہ صرف اپنی شادی کے بارے میں انکشافات کیے تھے بلکہ شاہی خاندان اور تخت کی وراثت پر بھی بات کی تھی۔

انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو گیا ہے کہ ویلز کی شہزادی کے انٹرویو کے لیے بی بی سی نے اوچھے ہتھکندے استعمال کیے، جس پر شہزادہ ہیری اور شہزادہ ولیم نے برطانوی نشریاتی ادارے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

شہزادہ ولیم نے کہا بی بی سی نے میرے والدین کے درمیان دوریاں پیدا کیں، غیر جانب دارانہ تحقیقات نے بی بی سی کا پول کھول دیا ہے، رپورٹ کے مطابق انٹرویوکے وقت بی بی سی نے دیانت داری اور شفافیت کے معیار کو یک سر نظر انداز کیا۔

اس رپورٹ کے مطابق شہزادی ڈیانا سے انٹرویو کا وقت حاصل کرنے کے لیے مارٹن بشیر نے جعلی دستاویزات تیار کی تھیں، بی بی سی کو معیار کے خلاف کام کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بی بی سی کو شہزادی ڈیانا کے بچوں، شہزادہ چارلس اور بھائی ارلا اسپنسر سے تحریری معافی بھی مانگنی پڑی۔

ایک بیان میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ وہ یہ جاننے کے بعد ناقابل بیان اداسی کا شکار ہیں کہ اس ادارے کی غلطیوں نے ان کی والدہ کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کی ذہنی حالت کو متاثر کرنے میں بڑا کردار ادا کیا، میں انتہائی غم زدہ ہوں کہ والدہ کو کبھی پتا نہ چل سکا کہ ان کا دھوکے سے انٹرویو کیا گیا تھا۔

پرنس ہیری نے نئے انکشافات کر دیے

انھوں نے سخت رد عمل میں کہا کہ ان کی والدہ کو نہ صرف ایک بدمعاش رپورٹر نے بلکہ بی بی سی کے ارباب اختیار نے (ازدواجی) زندگی میں ناکام بنا دیا۔ شہزادہ ہیری نے اپنی غیر معمولی والدہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ غیر اخلاقی اقدار پر بار بار عمل کرنے کا استحصالی اور تباہ کن رجحان ان کی والدہ کی جان لینے کا سبب بنا۔

خیال رہے کہ اس انٹرویو کو حاصل کرنے میں دھوکے بازی کے الزامات کے بعد 18 نومبر 2020 کو بی بی سی کے بورڈ نے لارڈ ڈائسن کو تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، جس کی رپورٹ 20 مئی کو تیار ہوئی، شہزادی ولیم نے کہا میں اس بات کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ بی بی سی نے لارڈ ڈائسن کی رپورٹ کو مکمل طور پر قبول کر لیا، ادارے کے ملازمین نے میری والدہ سے انٹرویو لینے کے لیے جھوٹ بولا اور جعلی کاغذات حاصل کیے، انھوں نے شاہی خاندان کے بارے میں بے ہودہ اور جھوٹے دعوے کیے جس نے میری والدہ کے خوف اور پریشانیوں میں اضافہ کیا۔

ذرائع: اے آر وائے نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں