297

کورونا کی نئی اقسام؛ چینی ویکسینز سے متعلق بڑا دعویٰ ‏

چینی کے ماہر صحت نے اپنے ملک میں تیار کردہ کورونا ویکسینز کو بھارت میں سامنے آنے والی ‏کورونا کی نئی اقسام کے خلاف انتہائی مؤثر قرار دے دیا۔

بیجنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے ماہر شاؤ ایمنگ نے کہا ‏کہ بھارت میں کوویڈ 19 کی نئی اقسام کے خلاف چین کی تیارکردہ ویکسینز کارگر ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی نئی اقسام کے سامنے جب دیگر ویکسینز ناکام ہو جاتی ہیں تو چین کی ‏ویکسینز اس صورتحال کا فوری حل پیش کرتی ہیں کیونکہ ان کی پیدواری تکنیک میں کسی قسم ‏کی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

شاؤ ایمنگ کے مطابق وائرس تغیراتی عمل سے گزر رہا ہے اور اس میں مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں، ‏اگر وائرس کی نئی اقسام موجودہ ویکسینز کو غیر مؤثر کر بھی تو چین نئی اقسام کے خلاف بھی ‏کارآمد ویکسینز بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں استعمال کی جانے والی چین کی سینوویک کورونا ویکسین حقیقی دنیا میں بھی ‏‏انتہائی مؤثر قرار دی گئی ہے۔

حال ہی میں سینوویک کی 10 لاکھ ویکسین چین سے پاکستان پہنچی ہے۔ سینوویک ساخت کی ‏‏ویکسین حکومت پاکستان اور وزارت صحت کی ایما پر خصوصی طیارے سے ‏لائی گئی ہیں۔

چین سے سنگل ڈوز ویکسین کی ایک لاکھ 20 ہزار ڈوز پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ چین سے آنے والی ‏کورونا ویکسین کین سائینو کمپنی کی تیارکردہ ہے۔

کوروناویکسین چینی ایئرلائن کے ذریعےپاکستان لائی گئی،کورونا ویکسین کی ‏فارمولیشن، پیکنگ این آئی ایچ میں ہوگی، این آئی ایچ کی ٹیم نےاسلام آباد ایئرپورٹ پرویکسین ‏وصول کی، جس کے بعد ویکسین کواین آئی ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔

جکارتہ میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تین ماہ کے دوران سینوویک ویکسین کے ‏‏انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔

ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد طبی عملے پر کیے گئے جائزہ کے مطابق ویکسین کی دوسری خوراک ‏‏لینے کے 7 روز بعد سے ان افراد میں کوویڈ 19 سے موت کے امکانات میں 98 فیصد کمی آئے جب ‏‏کہ انہیں اسپتال میں داخل کرنے کے معاملے 96 فیصد تک تحفظ ملا۔

چین کی کمپپنی سینوویک بائیو ٹیک کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین مرض کی روک تھام کے لیے ‏‏‏83.5 فیصد تک مؤثر قرار دی گئی ہے۔ ترکی میں اس ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے ‏‏حتمی نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

ترکی میں ابتدائی نتائج میں اس ویکسین کو 91.25 فیصد تک مؤثر قرار دیا گیا تھا۔

ٹرائل کے دوران مجموعی طور پر 41 افراد میں کووڈ کی تشخیص ہوئی جن میں سے 32 پلیسبو ‏‏گروپ سے تھے۔

ٹرائل میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ویکسین کی افادیت کا تعین دوسری خوراک کے استعمال کے ‏‏‏14 دن بعد کم از کم ایک علامت اور مثبت پی سی آر ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔

ذرائع: اے آر وائے نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں