136

سعودیہ میں غیر ملکی کو ملازمت سے نکالنے والی کمپنی کو لینے کے دینے پڑ گئے

عدالت نے غیر قانونی طریقے سے معاہدہ ختم کرنے پر کمپنی کو سابقہ ملازم کو 15 لاکھ ریال ادا کرنے کا حکم سُنا دیا

سعودی عرب میں ایک نجی کمپنی کواپنے ملازم کو نوکری سے نکالنا اتنا مہنگا پڑ گیا کہ اب اس کمپنی کے اعلیٰ عہدے دار اپنے فیصلے پر بیٹھے ہاتھ مل مل پچھتا رہے ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے ایک نجی کمپنی کو اپنے ملازم کو غیر قانونی طریقے سے ملازمت سے سبکدوش کرنے پر لاکھوں ریال بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔اُردو نیوز کے مطابق اُردن سے تعلق رکھنے والے ملازم کو کمپنی نے معاہدے کی شق کے خلاف ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ ملازم کے لیے بہت حیران کُن اور غیر متوقع تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے مقامی لیبر کورٹ میں کمپنی کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ عدالتی سماعت میں یہ ثابت ہو گیا کہ ملازم کو فارغ کرتے وقت معاہدہ ملازمت کی شقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔تبوک کی عدالت نے غیر قانونی طریقے سے ملازمت کا معاہدہ ختم کرنے پر نجی کمپنی کو ایک غیرملکی کو 1.5 ملین ریال ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیبر کورٹ نے پرائیویٹ کمپنی کے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ’ مقیم غیرملکی کا یہ دعوی سچ ثابت ہوگیا کہ اس کی ملازمت کا معاہدہ غیرقانونی طریقے سے ختم کیا گیا۔عدالت کمپنی کو حکم دیتی ہے کہ وہ معاہدہ ختم کرنے پر بطور ہرجانہ غیرملکی کو 3 لاکھ 58 ہزار ریال ادا کرے۔لیبر کورٹ نے اپنے فیصلے میں کمپنی کو یہ حکم بھی دیا کہ ’وہ غیرملکی ملازم کو 85 ہزار ریال سالانہ ترغیبات، 36 ہزار ریال ٹرانسپورٹ الاوٴنس، 85 ہزار ریال سالانہ الاوٴنسز، 9 لاکھ 88 ہزار ریال اینڈ آف سروس اور 20 ہزار ریال سالانہ چھٹیوں کے معاوضے کے طور پر ادا کرے۔لیبر کورٹ نے کمپنی کو ایک حکم یہ بھی دیا ہے کہ’ وہ اردنی شہری اور اس کے اہل خانہ کو اکانومی کلاس کے ٹکٹ اور کمپنی میں ملازمت سے متعلق سروس سرٹیفکیٹ بھی حوالے کرے‘۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں