165

اگر امارات نے سفری پابندیاں نہ ہٹائیں تو میرے خاوند کی ملازمت ختم ہوسکتی ہے

امارات کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں پاکستانیوں کی ملازمتیں داؤ پر لگ گئی ہیں

متحدہ عرب امارات کی جانب سے12 مئی کی رات پاکستان سے آنے والی تمام مسافر پروازوں پر پابندی لگا دی گئی تھی، جس کی وجہ سے عید کی تعطیلات منانے پاکستان آئے ہزاروں افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ان افراد میں سے بیشتر ایسے تھے جنہوں نے 20 مئی سے پہلے واپس امارات جانا تھا۔ مگر اس سفری پابندی نے ان کی واپسی مشکل بنا دی ہے۔حالیہ پابندی نے کئی افراد کی ملازمتیں خطرے میں ڈال دی ہیں کیونکہ ان کی ڈیوٹی ایسی ہے جسے آن لائن انجام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ عید کی تعطیلات سے قبل دُبئی سے پاکستان آ کر مشکل میں گھرے ایک جوڑے نے اپنی کہانی بیان کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی خاتون حبہ جمال نے خلیجی اخبار دی نیشنل کو بتایا ”میں اپنے شوہر کے ساتھ پچھلے سات سال سے دُبئی میں مقیم ہوں۔ہم میاں بیوی اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ عید کی تعطیلات سے قبل پاکستان آئے تھے، مگر اب ہماری واپسی مشکل ہو گئی ہے۔ ہمیں 22 مئی سے پہلے امارات لوٹنا تھا۔ میرے خاوند کی نئی ملازمت ہے، اگر ان کی واپسی میں دیر ہوئی تو بہت زیادہ خدشہ ہے کہ انہیں اس نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔ پہلے میرے خاوند کئی سال تک ایک ہی ملازمت کرتے رہے، تاہم کورونا وبا کے دوران معاشی بحران پیدا ہونے سے ان کی یہ نوکری چلی گئی تو کئی ماہ تک انہیں بے روزگار رہنا پڑا۔یہ وقت ہم پر خاصا مشکل تھا۔ خوش قسمتی سے کچھ عرصہ قبل ہی انہیں ایک کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کی ملازمت مل گئی ہے۔ ہم مطمئن تھے، مگر پاکستان آنے کا فیصلہ ہمارے لیے بہت بھاری ثابت ہوا ہے۔ اگر میرے خاوند کی جلدواپسی نہ ہو سکی تو بہت زیادہ امکان ہے کہ کمپنی کامالک ان کا زیادہ انتظار نہ کرے اور ان کی نوکری ختم کر دے۔ جو ہمارے مستقبل کو مستقل پریشانیوں میں دھکیل دے گا۔میرے خاوند جمال کا کام ایسا ہے کہ آن لائن نہیں کیا جاسکتا، دفتر میں ان کی حاضری لازمی ہے۔ امارات ہمارے لیے دوسرے وطن کی طرح ہے۔ میں اس وقت اُمید سے ہوں اور یہی خواہش ہے کہ اپنے بچے کو امارات میں ہی جنم دوں۔ میرے خاوند کا اپنی ملازمت پر جلد واپس جانا بہت ضروری ہے۔ مگر ہم بالکل بے بس ہیں۔ ہماری راتوں کی نیندیں اُڑ گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ہم نے عید بھی بڑے بوجھل دل کے ساتھ منائی ہے۔ہمارے رہائشی ویزوں کی مُدت بھی ختم ہو رہی ہے، ان کی تجدید کرانا بھی لازمی ہے۔ یہ صورت حال ہمارے لیے بہت پریشان کُن ہے۔ “

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں