178

سعودیہ میں مقیم پاکستانی تارکین ہوشیار ہو جائیں

مملکت میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن میں تیزی آگئی،گزشتہ روز بھی سینکڑوں افراد گرفتار کیے گئے ہیں

سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ سے زائد پاکستانی باشندے مقیم ہیں۔انہیں اس وقت کورونا ایس او پیز پر پوری طرح عمل کرنے ضرورت ہے، ورنہ انہیں گرفتاری کے علاوہ بھاری جرمانے اور ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا سے بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔ مملکت بھر میں کورونا کیسز میں اضافہ ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈاؤن میں تیزی لائی گئی ہے۔گزشتہ روز جازان میں سماجی فاصلے اور 20 سے زائد افراد کے اجتماع کی پابندی کی خلاف ورزی پر 70افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ نجران کے ایک گیسٹ ہاؤس میں جمع ہونے والے 130 افرا د بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ نجران پولیس کے ترجمان عبد اللہ العشوی نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس میں کھلے عام اجتماع پر پابندی کے احکامات کی دھجیاں اُڑائی جا رہی تھیں۔تقریب میں شریک مہمانوں، میزبان اور گیسٹ ہاؤس کے منتظم کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ جازان کی صامطہ کمشنری میں ایک مکان میں جمع 70 افراد بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ جازان پولیس کے مطابق اس مکان میں ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی، حالانکہ موجود وقت میں لوگوں کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ تقریب کے میزبان اور 70 مہمانوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔الشرقیہ پولیس کی جانب سے کورونا ایس او پیز پرعمل درآمد کی نگرانی کے لیے بازاروں، دُکانوں اور تجارتی مراکز پر 15 سو سے زائد چھاپے مارے گئے ہیں، جہاں 82 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ 17 تجارتی مراکز سیل کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ دو روز قبل سعودی پولیس نے ایک شادی ہال پر دھاوا بول کر وہاں موجود 121 خواتین کو گرفتار کر لیا۔سعودی میڈیا کے مطابق جازان پولیس نے الدرب کمشنری میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے والی 121 خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔ان خواتین کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے ترجمان نایف عبدالرحمن حکمی نے بتایا کہ ایک شادی ہال میں شادی کی تقریب منعقد کر کے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اُڑائی جا رہی تھیں۔ سعودی مملکت میں کورونا وبا کے باعث تمام تقریبات اور اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود سینکڑوں افراد پر مشتمل اس شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔حکومت کی جانب سے واضح طور احکامات ہیں کہ شادی کی تقریب دس بیس قریبی لوگوں تک ہی محدود رہ سکتی ہے۔ تاہم اس شادی ہال میں 121 خواتین جمع تھیں۔ انہوں نے ماسک بھی نہیں پہن رکھے تھے اور سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق حراست میں لی گئی خواتین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جبکہ شادی تقریب کے میزبان، مہمان اور شادی ہال کے منتظم کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ان افراد پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں