172

سعودیہ میں کورونا کیسز میں اضافے کا اثر مساجد پر بھی پڑنے لگا

6 علاقوں میں درجنوں نمازیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق، مزید 17 مساجد بند کر دی گئیں

سعودی عرب کی مساجد میں نمازیوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا پھیلاؤ کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ روزبھی درجنوں نمازیوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعدمختلف علاقوں میں واقع 17 مساجد بند کر دی گئی ہیں۔ وزارت اسلامی امور، دعوت و رہنمائی کے مطابق 103 روز کے دوران کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد اب تک1,288 مساجد بند کرا دی گئی ہیں جن میں سے1,240 کو سینیٹائزیشن کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔تازہ ترین کیسز کے بعد بند کرائی گئی مساجد کا تعلق ریاض، الشرقیہ، حدود شمالیہ، باحہ، عسیر اور جازان سے ہے۔ جبکہ گزشتہ روز 17 مساجد کو سینیٹائزیشن کے بعد کھولا گیا ہے۔ وزارت اسلامی کی جانب سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تمام نمازیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی نمازی اپنے اندر کرونا وائرس کی کوئی علامت محسوس کرے تو کرونا ٹیسٹ کے بغیر مسجد جانے سے گریز کرے۔جب تک یہ یقین نہیں ہوجائے کہ وہ کرونا میں مبتلا نہیں ہے وہ گھر پر ہی نماز ادا کرتا رہے۔چہرہ ماسک سے ڈھانپے رکھیں، جائے نماز گھر سے ہی لائیں، مساجد میں ڈسپوزیبل جائے نماز کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ دیگر نمازیوں سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔ وزارت اسلامی امور نے مزید کہا کہ ’اس حوالے سے لاپروائی برتنے کا نتیجہ دیگر نمازیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کی صورت میں برآمد ہوگا۔سب لوگ یہ بات مدنظر رکھیں کہ حفاظتی تدابیر کی پابندی دینی فریضہ اور شہری عمل ہے‘۔ نمازیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی مسجد میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد میں کوتاہی نظر آئے تو پہلی فرصت میں 1933 پر رابطہ کرکے مطلع کردیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل کورونا کیسز بڑھنے کے بعد سعودی مساجد میں خطبات اور نمازوں کے اوقات کے حوالے سے اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت باجماعت نمازوں کی ادائیگی کے فوراً بعد مساجد بند ہو جائیں گی اور جمعہ کے خطبات بھی پندرہ منٹ تک محدود کر دیئے گئے ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں