97

ہم فلسطین کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر رابطہ، اسرائیلی وحشیانہ بمباری کی مذمت کی

اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر 11 روز تک بمباری جاری رہی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید ہوئے جن میں سو سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ بالآخر عالمی برادری کی کوششوں سے اس اسرائیلی وحشیانہ بمباری کا خاتمہ ہو گیا اور فلسطینی بچارے جو عید بھی نہیں منا سکے تھے، اب انہیں کچھ سکون کا سانس ملا ہے تو اپنے پیاروں کا غم بھی منا ئیں گے اور اپنے برباد ہونے والے گھروں کی تعمیر نو کا بھی کچھ سوچ سکیں گے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر محمود عباس سے بات کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کے مظالم اور غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی اور القدس میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کے لیے ہر سطح پر رابطہ کیا۔ سعودی عرب نے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباوٴ ڈالنے کے لیے تمام موٴثر فورمز پر رابطہ کیا۔دوسری جانب صدر محمود عباس نے مملکت کے فلسطین کے بارے میں شاہ عبدالعزیز کیدور سے چلے آ رہے موقف کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی ریاست کی جارحیت روکنے کے لیے سعودی عرب کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔درایں اثنا فلسطینی وزارت خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وزارت خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے جمہوریہ مصر کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں