112

بھارتی ہندو ڈاکٹر ریکھا کرشنن نے انسانیت کی عظیم مثال قائم کردی

کورونا وارڈ میں مسلمان مریضہ کو آخری سانسیں لیتے دیکھا ، قریب کوئی رشتہ دار نہ ہونے پر خود کلمہ شہادت پڑھ لیا

 ہر مذہب میں انسانیت سے محبت رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک ایسی ہی انسان دوست ہندو ڈاکٹر نے وہ مثال قائم کر دی کہ اس کا ہر جانب چرچا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دُبئی میں پلی بڑھی ہندو ڈاکٹر ریکھا کرشنن نے جب کورونا وارڈ میں اپنی مسلمان مریضہ کو آخری سانسیں لیتے دیکھا تو قریب اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہونے کے باعث جان کُنی کے اس مراحل میں تکلیف کو کم کرنے کی خاطر اس کے گھر والوں کی جانب سے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ڈاکٹر ریکھا کا کہنا تھا کہ جونہی میں نے کلمہ شہادت مکمل کیا عین اسی لمحے مریضہ کی آخری سانس ختم ہو گئی۔ میں نے اپنی 56 سال مریضہ بواجو کے مذہب کی روایات پر عمل کرتے ہوئے ایسا کیا۔ تاکہ اسے آخری لمحے میں تسکین مل سکے۔

ڈاکٹر ریکھا بھارتی ریاست کیرالا کے سیوانا ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر میں انٹرنل میڈیسن سپیشلسٹ کے طور پر ذمہ داری نبھا رہی ہے۔انسانیت سے محبت رکھنے والی ڈاکٹر ریکھا نے بتایا ”کورونا کی مسلمان مریضہ کو شدید نمونیہہونے کے باعث مستقل وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ تاہم 17 روزبعد اس کی حالت اور بگڑ گئی جب اس کے جسم کے اہم اعضاء کام کرنا چھوڑ گئے جس کے بعد اس کی زندگی کی اُمید ختم ہوگئی تھی۔ ہم نے مریضہ کے گھر والوں سے بات کی کہ کلینکلی وہ وفات پا چکی ہیں۔ بس وینٹی لیٹر پر ان کا سانس ہی چل رہا ہے باقی سب اعضاء بالکل کام نہیں کر رہے۔گھر والوں نے ساری صورت حال سمجھ کر وینٹی لیٹر ہٹانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔جب خاتون کا وینٹی لیٹر ہٹایا گیا تو ان کی سانسیں اُکھڑنا شروع ہو گئیں۔میرے لیے یہ لمحہ انتہائی تکلیف اور کرب کا تھا کہ ایک مریض کو ہم بچا نہیں سکے اور مجبوراً اب اسے موت کے حوالے کر رہے ہیں۔ نزع کے عالم میں خاتون کی آخری سانسیں بڑی تکلیف کے ساتھ نکل رہی تھیں۔سو میں نے دُعا کے ساتھ ساتھ کلمہ شہادت بھی پڑھنا شروع کر دیا۔ عجیب معاملہ تھا کہ جیسے ہی کلمہ شہادت مکمل ہوا، اسی لمحے خاتون نے بھی اپنی زندگی کی آخری سانس لے لی۔ میرے لیے یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں بلکہ انسانیت کا تقاضا تھا۔ کیونکہ اگر اس دوران مرحومہ کی بیٹی یا گھر کا کوئی اور فرد ہوتا تو وہ بھی کلمہ شہادت پڑھتا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں نے یہ کلمہ خود سے نہیں پڑھا تھا، 

بلکہ قدرت نے مجھ سے پڑھوایا تھا۔“ ڈاکٹرریکھا نے مزید بتایا کہ میری پیدائش کیرالا میں ہوئی تھی مگر اپنے والدین کے ساتھ بچپن اور جوانی کا بڑا حصہ دُبئی میں ہی گزرا تھا۔ یہیں کے دی انڈین ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے والدین اور کئی رشتہ دار اب بھی دُبئی میں ہیں۔ تاہم میری نوکری بھارت میں ہونے کی وجہ سے میں اپنے خاوند ڈاکٹر کے ساتھ کیرالا میں مقیم ہوں۔ ہمارا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، جو چھٹیوں میں اپنے نانا نانی کے ساتھ دُبئی میں ہیں۔میرا دُبئی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ میرے لیے دوسرا وطن ہے۔ میرے والدین نے مجھے سارے مذہبوں کے احترام کا درس دیا ہے۔ میں نے بُر دُبئی کے مند ر میں اپنی پوجا بھی کی اور والدین کے کہنے پر مساجد میں جا کر مسلمانوں کی عبادت اور دعائیں بھی دیکھیں، جن میں چند ایک مجھے یاد ہو گئیں۔ دُبئی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں مجھے اپنے مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگی بِتانے کی مکمل آزادی ہے۔اسلامی اور بھارتی تہذیب و ثقافت میں تمام مذاہب کا احترام سکھایا جاتا ہے۔ میرے اسلام سے احترام کی وجہ سے امارات کے لوگوں نے ہمیشہ مجھے بہت زیادہ عزت اور پیار بخشا ہے۔ میرا اپنی مسلمان مریضہ کے لیے کلمہ پڑھنا ایک انسانیت پرستی کی عام بات تھی ، اگر دوبارہ کبھی ایسی صورت حال ہوئی تو میں پھر ایسا کروں گی۔ کورونا وبا سے متاثرہ مریضوں کو گھر والوں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے ان کے قریب ترین لوگ ہم ڈاکٹرز اور نرسیں ہی ہوتی ہیں۔ میرا بھی اپنے مریضوں کے ساتھ گھر والوں جیسا ہی تعلق قائم ہو گیا ہے۔ “

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں