118

ابوظبی میں گیارہ سو سے زائد تجارتی اور صنعتی شعبوں میں پاکستانی بھی سرمایہ کاری کر سکیں گے

مینوفیکچرنگ، آلات، فوٹوگرافی، کرایہ اور چڑیا گھر کے بھی پاکستانی سو فیصد مالکانہ حقوق حاصل کر سکتے ہیں

ابو ظبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلمپنٹ نے ایک ہزار 105 رجسٹرڈ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کی ایک فہرست کا اعلان کیا ہے جو قانونی غیر ملکیوں کی ملکیت کے لیے کھلی ہیں۔اُردو نیوز کے مطابق اس سے ابوظبی میں تجارتی کمپنیوں کو مکمل یا جزوی طور پر اپنی سرگرمیوں پر عمل کرنے کا اہل بنانا ہے اس فہرست میں مینوفیکچرنگ سے لے کر آلات، کرایہ، فوٹوگرافی اور چڑیا گھر چلانے تک وسیع پیمانے پر سرگرمیاں شامل ہیں۔ابوظبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلمپنٹ کے چیئرمین محمد علی الشورافا نے کہا کہ ’یہ اعلان ابو ظبی حکومت کی براہ راست مزید بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کھلی اور لچکدار مسابقتی کاروباری ماحول کو فروغ دینے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ ابوظبی میں نجی شعبے کے لیے مراعات فراہم کرنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نقشے پر ابوظبی کی حیثیت بڑھانے کے بہت سے فیصلوں اور اقدامات میں سے ایک ہے۔غیر ملکی ملکیت کے لیے دستیاب سرگرمیوں کی فہرست کا فیصلہ وزرا کونسل نے کیا جس کے مطابق اس کا سب سے بڑا سٹریٹیجک اثر مرتب ہو گا۔موجودہ کمپنیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو ایڈجسٹ کریں بشرطیکہ وہ ان سرگرمیوں یا دیگر قابل اطلاق پابندیوں کے ضوابط پرعمل کریں جو ابو ظبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلمپنٹ کے اپنائے ہوئے طریقہ کار کے مطابق ہیں۔واضح رہے کہ امارات کی فنانس منسٹری نے اہم اعلان کر دیا ہے جس کے تحت غیرملکیوں کو اپنے نام سے مکمل کمپنی قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یکم جون سے عمل درآمد شروع ہوجائے گا جس کے بعد سرمایہ کار اور صنعت کار مقامی افراد کی شمولیت کے بغیر سو فیصد مالکانہ حقوق کے ساتھ اپنی کمپنیاں قائم کر سکیں گے۔ غیر ملکیوں کے لیے اس بڑی سہولت کا مقصد امارات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کوبہت زیادہ فروغ دے کر قومی معیشت کو مضبوط تر بنانا ہے ۔اب کوئی بھی غیر ملکی امارات میں اپنی کمپنی کا اکلوتا مالک بن سکتا ہے۔ سابقہ قانون میں یہ شرط تھی کہ کسی بھی اماراتی کمپنی میں اماراتی باشندے کا شیئر ہولڈر ہونا ضروری تھا، تاہم اب اس ترمیم کے بعد کمرشل کمپنی کھولنے کے لیے اماراتی کا اس کمپنی کا مالک یا شیئر ہولڈر ہونا لازمی نہیں ہوگا۔ کوئی بھی غیر ملکی امارات میں اپنی آف شور کمپنی کا بلاشرکت غیرے مالک بن سکے گا۔اس اقدام کا مقصد امارات میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی گنتی کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے 2015ء کے کمرشل کمپنیوں سے متعلق قانون کی 51 شقوں میں تبدیلی کر دی ہے، اس کے علاوہ تین نئی شقوں کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ جس کے بعد اب غیر ملکی کُلی طور پرخود مختار ہو کر امارات بھر میں اپنی کمرشل کمپنیاں بغیر کسی اماراتی شیئر ہولڈر کی شمولیت کے چلا سکیں گے ۔اس طرح انہیں اپنے کاروباری فیصلوں میں کسی قسم کی مجبوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ نئی ترامیم کے تحت کسی بھی غیر ملکی کی کمپنی میں اماراتی باشندے کو ایجنٹ کے طور پر تعینات کرنے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اب کمرشل کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اماراتی باشندوں کی اکثریت ہونے کی شرط بھی ختم ہو گئی ہے۔ تاہم گیس کی تلاش، یوٹیلٹیز، ٹرانسپورٹ اور حکومت کے زیر انتظام شعبوں پر نئی ترامیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کی جانے والی نئی ترامیم کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امارات میں بڑے پیمانے پر مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑی انویسمنٹ کی جائے گی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں