74

مسجد الحرا م میں اماموں کے محافظوں کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟

گزشتہ روز کے واقعے کے بعد لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ محافظ کونسی اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں

مسجد الحرام میں جمعے کے خطبہ کے دوران منبر پر چڑھنے کی کوشش کرنے والے شخص کو بروقت قابو کرنے کے واقعے پر صارفین سوشل میڈیا پر مسجد الحرام میں آئمہ کے محافظوں کی ستائش کر رہے ہیں۔صارفین نے ’ہیش ٹیگ الحرم المکی‘ کے ذریعے اپنے تاثرات کا اظہار شروع کیا تھا جو ٹرینڈ بن گیا۔ کئی افراد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کی اور انہیں اس کام میں لمحے نہیں لگے۔اُردو نیوز نے حرم کے آئمہ کے محافظوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ امام حرم کے رہائش سے نکلنے، حرم شریف پہنچنے اور رہائش پر واپس جانے تک انتہائی چوکس رہتے ہیں۔ محافظ امام حرم کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ محراب تک پہنچنے یا منبر پر کھڑے ہونے تک ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

دوسری جانب سے سی سی ٹی وی کیمرے بھی امام حرم کی آمد ورفت کو مانیٹر کرتے ہیں۔نماز کے دوران بھی سکیورٹی اہلکار چوکس رہتے ہیں۔ امام کے اطراف ہونے والی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ جہاں وہ کوئی نامانوس حرکت دیکھتے ہیں فورا ہی متحرک ہوجاتے ہیں اور کسی تاخیر کے بغیر کارروائی کرتے ہیں۔امام حرم جیسے ہی نماز سے فارغ ہوتے ہیں فورا ہی محافظ انہیں اپنے گھیرے میں لے کر انہیں رہائش تک پہنچاتے ہیں۔یاد رہے کہ مکہ پولیس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے جمعے کو خطبے کے دوران مسجد الحرام کے منبر پر چڑھنے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو حراست میں لیا تھا۔گزشتہ روز مسجد الحرام میں نماز جمعہ کے خطبہ کے وقت اس وقت پریشان کُن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب ایک شخص نے بھاگ کر منبر پر چڑھنے کی کوشش کی تھی، تاہم منبر کے پاس کھڑے سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے منبر پر چڑھنے کے دوران دبوچ کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے اس مشتبہ شخص کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔مکہ پولیس کے مطابق اس شخص کی عمر چالیس سال سے زائد ہے۔ یہ اپنے ساتھ ایک لاٹھی بھی لایا تھا۔ تفتیش کے دوران اس نے اپنے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُمت مُسلمہ اُسی کا انتظار کر رہی ہے۔ ملزم کے خلاف اس سنگین حرکت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ذہنی صحت کی بھی جانچ کروائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے جلد مزید تفصیلات سامنے آجائیں گے۔فی الحال اس شخص کا نام اور قومیت ظاہر نہیں کی گی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز واقعے کے وقت شیخ بندربلیلہ خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔جب ایک شخص نے بھاگ کر منبر پر چڑھنے کی کوشش کی، وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو منبر پر چڑھنے سے روک دیا، الحرمین شریفین کے سوشل میڈیا اکاوٴنٹ کی جانب سے شیئرکردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شیخ بندربلیلہ مسجد الحرام میں خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ اچانک منبرکی جانب تیزی سے بھاگتا ہوا ایک شخص دکھائی دیتا ہے۔یہ شخص جونہی منبر پرچڑھنے کیلئے دروازے کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکار اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور پکڑ لیتے ہیں ، لیکن یہ پھر بھی منبر پر چڑھنے کیلئے مزاحمت کرتا ہے، جس پر سکیورٹی اہلکار اس کو دبوچ کر نیچے گرا دیتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر واقعے سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔واقعے کے وقت شیخ بندربلیلہ خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں