130

سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجی گئی بارود بردار کشتی تباہ کر دی گئی

عرب اتحادی افواج کے مطابق بحر احمر کے جنوب میں نظر آنے والی کشتی کو ہدف کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا

سعودی عرب میں عید کی تعطیلات سے پہلے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں بہت زیادہ تیزی آ گئی تھی۔اب ایک بار پھر حوثی ملیشیا کی جانب سے حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سعودی میڈیا کے مطابق سمندری حدود سے سعودی مملکت کو تباہی کا نشانہ بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ عرب اتحاد کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ بحر احمر کے جنوب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجی گئی دھماکا خیز کشتی تباہ کر دی گئی ہے جو کسی اہم سعودی تنصیب کو ہدف بنانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔واضح رہے کہ دو روز پہلے سعودیہ کے سرحدی علاقہ جازان کی آبادی پربھی ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔ یہ ڈرون طیارہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔

تاہم چند لمحے پہلے اس کی سعودی ریڈارز نے نشان دہی کر دی جس کے فوراً بعد اس ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ بارود بردار ڈرون شہری آبادی کو نشانہ بنا لیتا تو انسانی جانوں کو خطرات پیش آ سکتے تھے۔عید سے دو روزقبل ابھا کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیاتھا۔ اور عید سے ایک روز قبل سعودیہ کے سرحدی علاقے کے ایک گاؤں پر راکٹ داغا گیاتھا۔ اس حملے میں شہری بال بال بچ گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے صوبے جازان میں یمن کی سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں پر راکٹ حملہ کیا گیا ۔ یہ راکٹ ایک گھر کے صحن میں آ گھرا۔ جس کے نتیجے میں گھر کو اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم گھر کے مکین رب کی مہربانی سے بال بال بچ گئے ہیں۔جازان کے شہری دفاع ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان نے بتایا کہ ایک گھر میں راکٹ گرنے کے اطلاع ملتے ہی شہری دفاع کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔راکٹ گھر کے صحن میں گرنے سے دیواروں اور صحن اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔عرب عسکری اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں بتایا عرب فوجی اتحاد کی جانب سے اب تک حوثیوں کے 369 میزائل ، 626 بمبار ڈرون اور 68 بمبار کشتیوں کے ذریعے حملوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔ ۔اس کے علاوہ سمندر میں حوثیوں کی جانب سے بچھائی 204 بارودی سرنگیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں