169

سعودی خواتین چند سالوں میں تمام کاروباری شعبوں میں چھا گئیں

صرف تین ماہ کے دوران 30ہزار خواتین نے ہول سیل، ہوٹلنگ، آٹو ریپئرنگ اور دیگر سروسز کے پرمٹ حاصل کر لیے

سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو ایک اعتدال پسند ریاست بنانے کے عزم پر کاربند ہیں۔ اس مقصد کی خاطر انہوں نے سعودی خواتین پر صدیوں سے عائد بہت سی پابندیاں ختم کر کے انہیں سعودی مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کی کوشش بھی کی ہیں۔ سعودی خواتین معاشی شعبوں میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوانے لگی ہیں۔اپنی انہی معتد اور ترقی پسند پالیسیوں کی وجہ سے سعودی ولی عہد عوام اور خصوصاً خواتین میں بہت مقبول ہیں۔ ان کے دور میں سعودی خواتین کو بہت سے حقوق اور سہولیات ہونے کی وجہ سے وہ مملکت کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار نبھا رہی ہیں اور اپنے گھرانوں کی کفالت کر کے خوشحالی میں اضافہ کر رہی ہیں۔العربیہ نیوز نے سعودی وزارت تجارت کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اب تک خواتین کو 30 ہزار کاروباری پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔سعودی خواتین کے لیے جاری کردہ کاروباری پرمٹس میں ہول سیل، پرچون، گاڑیوں کی مرمت، موٹرسائیکلوں کی مرمت اور ان کے اسپیئرپارٹس، ہوٹلنگ اور دیگر سروسز سے متعلق پرمٹ شامل ہیں۔سعودی وزارت تجارت کے مطابق خواتین کے لیے کاروباری پرمٹس کے حصول کی شرائط وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کو کاروباری شعبے میں شامل کرنا اوران کی حوصلہ افزائی مملکت کی وسیع تر ترقی اور اصلاحات کے پروگرام’وژن 2030′ کے اہداف کا حصہ ہے۔حکومت خواتین کو کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لیے انہیں ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی۔خواتین کے لیے کاروباری پرمٹ کے لیے بنیادی شرائط میں عمر کم سے کم 18 سال مقرر ہے۔ کوئی سرکاری ملازم خاتون پرمٹ کے لیے درخواست دینے کی اہل نہیں۔ کاروبار کے لیے کم سے کم سرمایہ 5 ہزار ریال ہے، ‘ابشر’ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن، سالانہ ٹیکس کم سے کم 200 ریال اور ایوان صنعت وتجارت کی سالانہ فیس کی ادائیگی بھی شرائط کا حصہ ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین بہ تدریج کاروبار کی طرف آ رہی ہیں۔ سال 2020ء کے دوران ایک لاکھ خواتین کو کاروباری پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔سعودی عرب میں اس وقت مقامی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد 33 فی صد بڑھ چکی ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں