234

فائزر ویکسین ، سائنو فارم ویکسین کے مقابلے میں زیادہ موثر اور کامیاب ہے: سعودی ڈاکٹر امیر طلیمات کا دعویٰ

ڈاکٹر طلیمات کے مطابق فائزر ویکسین کی تاثیر دو سال تک برقرار رہتی ہے جبکہ سائنو فارم ویکسین کی تاثیر چھ ماہ بعد کم ہو جاتی ہے

سعودی عرب کے معروف معالج اور چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد امیر طلیمات کا کہنا ہے کہ فائزر ویکسین ، سائنو فارم ویکسین کے مقابلے میں بہت زیادہ موثر اور کامیاب ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق انہوں نے سعودی ٹی وی چینل ایم بی سی کے پروگرام میں کہا کہ ویکسین سے حاصل ہونے والا مدافعتی نظام طویل عرصے تک چلتا ہے۔فائزر ویکسین 95 فیصد تک مدافعتی نظام مضبوط کر دیتی ہے۔ اس کی تاثیر دو برس تک برقرار رہے گی۔ ممکن ہے کہ اس کے بعد تیسری خوراک کا مشورہ دیا جائے۔ جہاں تک سائنو فارم ویکسین کا تعلق ہے تو اس کی دو خوراکوں پر 79 فیصد قوت مزاحمت آجاتی ہے جبکہ چھ ماہ بعد مدافعتی نظام ہلکا پڑ جاتا ہے۔ مدافعتی نظام کمزور پڑنے کی صورت میں اس کی تیسری خوراک کا مشورہ دیا جاتا ہے۔‘ڈاکٹر محمد امیر طلیمات کا کہنا ہے کہ کسی ایک ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے بعد دوسری خوراک کسی اور ویکسین کی نظریاتی طور پر لینے میں کوئی قباحت نہیں لیکن ابھی اس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس حوالے سے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ بلیک فنگس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایسے لوگوں کو لگتا ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے مثلا کینسر کے مریض اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ان دنوں یہ انڈیا میں پھیلا ہوا ہے اور یہ ناک اور دماغ کی نالیوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔بلیک فنگس قبل ازوقت پیدا ہوجانے والے بچوں کے نظام ہضم پر بھی حملہ آور ہوتا ہے جو پھیپھڑوں یا جلد کو متاثر کرتا ہے۔ زخموں والے انسان بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر طلیمات نے سعودیہ میں پھیلائے گئے اس پراپیگنڈے کو بھی غلط قرار دیا کہ فائزر ویکسین کے ذریعے انسانی جسم میں کوئی مائیکرو چپ منتقل کی جا رہی ہے، جس سے انسانی ذہن پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بچگانہ سوچ ہے۔ اس طرح کا پراپیگنڈہ ایک خاص لابی کر رہی ہے ۔ لوگ ان من گھڑت باتوں پر ہرگز نہ یقین کریں اور فی الفور ویکسین لگوا کر خود کو محفوظ بنائیں تاکہ مملکت سے اس موذی وبا کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں