126

سعودی عرب میں کورونا کی خطرناک بھارتی قسم پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارتی قسم کا کورونا بحرین ، ایران اور اُردن پہنچنے کے بعد سعودیہ بھی متاثر ہو سکتا ہے

سعودی عرب میں کورونا کی بھارتی قسم پہنچنے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ‘عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ 11 مئی سے اب تک 4 مزید ممالک کی جانب سے کرونا وائرس کی بھارتی قسم (B.1.617) کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ ممالک بحرین، ایران، اردن اور مراکش ہیں۔ دنیا بھر میں مجموعی طور پر 44 ممالک اپنے ہاں اس نوعیت کے کرونا وائرس کی موجودگی کے بار میں آگاہ کر چکے ہیں۔العربیہ نیوز کے مطابق ادارے کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک میں کرونا کی اس قسم کے پھیلاوٴ کا امکان بڑھ گیا ہے ، ان ممالک میں سعودی عرب شامل ہے۔ اس کی وجہ خلیجی ممالک اور بھارت کے درمیان جغرافیائی قربت ہے۔اس حالے سے عالمی ادارہ صحت کے مشرق وسطی ریجن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنظری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کی۔

ان کا کہنا ہے کہ “سعودی عرب کرونا کی وبا کے آغاز سے ہی اس ے پھیلاوٴ کی روک تھام کے واسطے تمام کوششیں کر رہا ہے۔ہم عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مثالی تعاون پر مملکت کے شکر گزار ہیں”۔المنظری کے مطابق “سعودی عرب خطے اور اس کے بیرون ایک اہم عطیہ کنندہ ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ہم مملکت کے اس کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بے شک بھارت کی مدد کرنے میں بھی سعودی عرب کی تیزی گراں قدر ہے”۔المنظری نے مزید کہا کہ “بھارت میں کرونا کے متاثرین اور اس کے سبب اموات کی تعداد میں اضافہ خطرناک اور سنگین ہے۔ہم بھارت اور دنیا کے بقیہ دیگر ممالک کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ کرونا کی نئی اقسام قابل تشویش ہیں۔ ان اقسام کے نمودار ہونے سے اس بات کی اہمیت نمایاں ہو گئی ہے کہ تمام لوگوں کو طبی، سماجی، مقامی اور قومی تدابیر پر کاربند رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں بھرپور رابطہ کار اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے”۔کرونا وائرس کے اعداد و شمار کے حوالے سے المنظری نے بتایا کہ “عالمی سطح پر 21 مئی 2021ء تک عالمی ادارہ صحت کو 16.5 کروڑ سے زیادہ مصدقہ کیس اور 53 لاکھ کے قریب اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔مذکورہ تاریخ تک مشرق وسطی کے خطے میں مجموعی طور پر 98 لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 1.97 لاکھ وفات پا چکے ہیں۔ خطے کی اور عالمی سطح پر صورت حال ابھی تک تشویش ناک ہے۔ ہمیں صحت عامہ کی اور سماجی تدابیر پر سختی سے کاربند رہنا ہو گا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں