205

وزیراعظم عمران خان کون ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنے والا کہ امریکہ کو ہوائی اڈے دینے ہیں یا نہیں

پاکستان کی پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار حاصل ہے کہ ملکی خود مختاری کو مدنظر رکھ کر کیا فیصلے کرنے ہیں،نہال ہاشمی

افغان اور امریکی میڈیا کو دیکھا جائے تو وہ یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کو استعمال کرے گا جبکہ حکومت پاکستان نے ان سبھی خبروں کی تردید کر دی ہے۔جبکہ اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے راہنما نہا ل ہاشمی نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ امریکہ کو ایئربیس دینی ہے یا نہیں یہ پاکستان کی خود مختاری کا سوال ہے اور اس کا فیصلہ فرد واحد کرنے کا مجاز نہیں لہٰذا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت معاہدہ کرکے ہوائی اڈے دینے کا فیصلہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور پاکستان کے پارلیمنٹ میں عوام کے بیٹھے ہوئے نمائندے یہ فیصلہ کریں گے کہ امریکہ کو ہوائی اڈے دینے کا سمجھوتہ کرنا ہے یا نہیں۔جبکہ اس قسم کی خبروں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے حکومت سے اس معاملے کی وضاحت طلب کرلی۔ پاکستان نے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی جس پر یہ معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے نکتہ اعتراض پر حکومت سے اس معاملے کی وضاحت طلب کرلی۔وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم کا واضح موقف ہے کہ افغانستان کا مسئلہ افغان قوم اور افغان ریاست کو خود حل کرنا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خود اس حوالے سے جلد ایوان کو بریفنگ دیں گے۔امریکاعلی محمد خان نے مزید کہا کہ بیرونی طاقتیں صرف سہولت کاری کا کردار ادا کرسکتی ہیں، حکومت پاکستان اور وزیر خارجہ کے تاریخی کردار سے مسجد اقصیٰ کی حرمتی عارضی رک چکی ہے، اسرائیلی قتل و غارت فی الوقت پاکستانی کوششوں کی وجہ سے تھم چکی جس سے ملک کا سر امت مسلمہ میں فخر سے بلند ہوا۔اس طرح یہ معاملہ سینیٹ کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا کو زمینی اور فضائی اڈے نہیں فراہم کرنے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف وار کرائم کے حوالے سے کوششیں کرنی ہوں گی، فلسطین کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن ایک بیج پر ہیں لیکن ہمیں اس سے بھی آگے بڑھ کر کشمیر اور فلسطین کے لیے کام کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی افواج کو افغانستان تک رسائی دینے کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔جبکہ پاکستان کے وزارت خارجہ دفتر نے اس خبر کی تردید کی ہے ارو ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان2001میں ہونے والے معاہدے کے تحت چل رہا ہے ا ور اس ضمن میں کسی بھی قسم کا کوئی نیافیصلہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں