112

سعودی حکومت نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو ایمان پرور خوشخبری سُنا دی

حرم شریف میں زائرین کی گنجائش بڑھانے کے لیے نئے منصوبوں پر کام شروع ہوگیا، ٹھیکے داروں کو لائسنس جاری ہو گئے

سعودی عرب دُنیا بھر کے مسلمانوں کے متبرک اور مقدس ترین مقام ہیں۔ یہاں پر موجود خانہ کعبہ اور مسجد نبوی اور روضہ شریف کی زیارت کے لیے ہر سال ایک کروڑ سے زائد افراد حج اور عمرہ کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔ کورونا کی وبا سے قبل مسجد الحرام میں دن رات لاکھوں افراد کا اجتماع رہتا تھا۔ اتنی بڑی تعداد کو عبادت، زیارت اور حج و عمرہ کی سعادت کے دوران سہولیات اور آرام فراہم کرنا حرمین شریفین کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے جسے وہ بخوبی نبھاتی ہے۔حرم شریف میں زائرین کی تعداد کی گنجائش بڑھانے کے حوالے سے سعودی حکومت نے بڑی خوش خبری سُنا دی ہے۔ سبق ویب سائٹ کے مطابق حرم مکی کے تیسرے توسیعی منصوبے میں تعمیرات اور ترمیم سے متعلق 60 لائسنس جاری کر دیئے گئے ہیں۔

حرمین شریفین کی انتظامیہ کے شعبہ تعمیرات نے بتایا ہے کہ حرم میں زائرین کی گنجائش بڑھانے اور انہیں بہترین خدمات کی فراہمی کے لیے نئے منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جن میں مطاف کی عمارت کی چھت، دوسری منزل اور اس کے اسٹرکچر کی تعمیر نو ، توسیع اورمرمت کے علاوہ مزید برقی زینوں کی تنصیب اور دیگر مقامات کی مرمت کا کام شامل ہے۔اس سلسلے میں متعدد ٹھیکے داروں کو لائسنس جاری کر دیاگیا ۔ کچھ ٹھیکے داروں نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ کچھ منصوبے آئندہ حج 1442ھ سے متعلق ہیں جن کی تکمیل پر زائرین کو اور زیادہ خدمات میسر آئیں گی۔ واضح رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران مسجد الحرام میں نمازیوں اور عمرہ زائرین کی آمد اور عبادت پر پابندی کے دنوں میں کئی ایسے تعمیراتی کام تیزی سے کر ڈالے، جنہیں عام حالات میں نمٹانے میں کئی ماہ کا وقت لگ سکتا تھا۔حرمین شریفین کی جنرل پریذیڈنسی کے مطابق مسجد الحرام میں مسعیٰ اور شاہ فہد توسیعی علاقے میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران سنگ مرمر کی 4 ہزار سے زائد سلیب تبدیل کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ امام کے مصلے یعنی نماز پڑھانے کی جگہ کو بھی تیار کیا گیا ہے۔حرمین شریفین سے متعلق پراجیکٹس کے ڈائریکٹر انجینئر عمار الاحمدی کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران جب نمازوں اور عمرہ کی ادائیگی معطل تھی ، اس دوران 1849 مربع میٹر رقبے پر محیط سنگ مرمر کے 4,001 پرانے سلیب اُکھاڑ کر ان کی جگہ نئے سلیب لگا دیئے گئے ہیں۔سعی کے مقام پر 7سو سنگ مرمر سلیبز جبکہ شاہ فہد توسیعی حصے میں 3,302سلیبز لگائی گئی ہیں۔ ان سلیبز کی موٹائی 3 سینٹی میٹر ہے۔ اس کے علاوہ امام کا مصلیٰ گراؤنڈ فلور پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ مصلیٰ اٹھارہ روز کے اندر تیا ر کیا گیا ۔ اس مصلےٰ میں 7 ایئرکنڈیشنڈ کیبن یونٹس، 7 فانوس، 140 لائٹنگ یونٹس اور 38 اسپیکرز شامل ہیں۔ سنگ مرمر کی سلیبز لگوانے اور امام کا مصلیٰ تیار کروانے کے کام کی نگرانی 15 انجینئرز نے کی۔رمضان سے قبل مسجد الحرام کا توسیعی حصہ بھی زائرین کے لیے کھول دیا گیا تھا۔اس توسیعی حصے میں کئی طرح کے ٹریک بنائے گئے ہیں۔ عمرہ زائرین ٹریک اور نمازیوں کا ٹریک، ہر ٹریک پر تمام سہولتیں مہیا کر دی گئی ہیں۔ مسجد الحرام میں تیسری توسیع والی عمارت کا افتتاح خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے کیا تھا۔ آل سعود کے عہد میں پہلی توسیع بانی مملکت شاہ عبدالعزیز نے شروع کرائی تھی، جسے شاہ سعود اور شاہ فیصل نے مکمل کرایا تھا۔پھر شاہ خالد کے زمانے میں مشرقی صحنوں میں توسیع کی گئی، اس کے بعد مغرب کی جانب بڑی توسیع شاہ فہد کے زمانے میں ہوئی۔ شاہ عبداللہ کے زمانے میں صفا اور مروہ کی توسیع ہوئی اور پھر ان کے حکم پر تیسری بڑی توسیع شروع کی گئی جو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کے عہد میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں