100

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے منبروں کے حوالے سے دلچسپ تاریخی معلومات سامنے آ گئیں

تاریخی حوالوں کے مطابق مسجد الحرام میں پہلی بار 46 ھ میں حج کے موقع پر منبر رکھا گیا تھا جبکہ مسجد نبوی کا پہلا منبر صحابی رسول میمون نے تیار کیا تھا

 چند روز قبل مسجد الحرام میں خطبہ جمعہ کے دوران ایک شرپسند نے منبر پر چڑھنے کی کوشش کی تھی جسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جس کے بعد بہت سے لوگ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے منبروں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ حرمین شریفین کے منبر جہاں سے آئمہ کرام جمعہ اور عیدین کے خطبات پیش کرتے ہیں اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اہمیت کے حامل رہے ہیں۔العربیہ نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق مسجد الحرام کے منبر کے بارے میں فلسطینی دانشور اور مورخ عبداللہ الحسنی الزھرانی کا کہنا ہے کہ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مسجد الحرام میں منبر صحابی معاویہ بن ابو سفیان کے دور میں سنہ 46ھ کے حج کے موقعے پر رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت منبر تقریبا ایک میٹر اونچا تھا۔

اسے مقام ابراہیم علیہ السلام کے قریب رکھا گیا۔اس کے بعد مختلف اسلامی ادوار میں مسجدحرام اور مسجد نبوی میں منبر رکھے جاتے رہے۔الزھرانی نے بتایا کہ تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان کے بعد مسجد حام میں اب تک 20 منبر رکھے گئے۔ سب سے مشہور منبر سنگ مرمر کا منبر تھا جو اپنی ‘بنیاد’ سمیت 12 میٹر اونچا تھا۔فلسطینی تجزیہ نگارکا کہنا ہے کہ سنگ مرمر کا منبرسلطان سلیم خان کے دور میں تیار کیا گیا۔یہ ایسے طریقے سے بنایا گیا تاکہ خطبہ دینے والے امام پر براہ راست دھوپ نہ لگے۔ اسے 1400ھ کو وہاں سے اکھاڑا گیا اور وہ اب مکہ معظمہ کی حرمین شریفین نمائش میں موجود ہے۔حسنی الزھرانی کا کہنا ہے کہ مسجد حرام کا موجودہ منبر آل سعود کے دور میں تیار کیا گیا۔ 

مقامی سطح پر ‘تیک’ نامی لکڑی سے بنایا گیا یہ منبرتین زینوں پر مشتمل ہے۔اس کے اوپر ایک گنبد ہے جو خطبہ دینے والے امام کو دھوپ سے بچاتا ہے۔مدینہ منورہ کی تاریخ کے بارے میں گہر دسترس رکھنے والے انجینیر حسان طاھر نے بتایا کہ منبر رسول مسجد نبوی کی اہم ترین اورنمایاں نشانیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تاریخ کی کتب میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہلے منبر پرخطبہ ارشاد نہیں فرماتے تھے بلکہ وہ خطبہ دیتے وقت کھجور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہوتے۔کھجور کے تنے کو منبر کے طور پر اس قت تک استعمال کیا گیا جب تک منبر نہیں بنایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مسجد میں منبر کی تیاری کا تخیل اس وقت آیا جب مسجد نبوی میں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس لیے جب آپ خطبہ ارشاد فرماتے تو بہت سے لوگ آپ کو دیکھ اور سن نہیں سکتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے تھک جاتے تو بیٹھ جاتے۔مسجد نبوی میں موجود منبر ‘الطرفا’ درخت کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ درخت مدینہ منورہ کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ منبر کو مسجد نبوی کی مغربی سمت میں رکھا گیا ہے۔ مسجد نبوی میں سب سے پہلے منبر صحافی میمون نے تیار کیا تھا۔ میمون مدینہ منورہ کے بڑھئی مشہور تھے۔مسجد نبوی میں منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی رکھ دیا گیا تھا۔ اس وقت نشست اور دو زینوں پر مشتمل منبر تھا۔ خلفا راشدین کے دور میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اموی خلافت کے دور میں خلیفہ مروان بن حکم نے اس کے سات زینے بنوائے۔ بعد میں مزید تین کا اضافہ کیا اور 9 ہوگئے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں