232

’کیا سعودیہ میں کورونا ویکسین لگوانے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں‘

سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈے کے بعد وزارت صحت نے تردید کر دی ہے کہ مملکت میں ایک بھی شخص ویکسین لگوانے کی وجہ سے جان گنوا بیٹھا ہے

سعودی عرب میں کورونا وبا کے آغاز میں ہی کئی قسم کے منفی پراپیگنڈے شروع ہو گئے تھے۔ پہلے کورونا ٹیسٹنگ پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ۔ پھر ویکسین کے بارے میں کبھی یہ پراپیگنڈہ ہوا کہ اس میں سُور کے اجزاء شامل ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال حرام ہے۔ کچھ لوگوں نے ویکسین کے بعد اموات کا بھی پراپیگنڈہ کیا تھا۔اب ایک بار پھر سوشل میڈیا پر یہ بے بنیاد پراپیگنڈہ شروع ہو گیا ہے تاہم سعودی وزارت صحت کی جانب سے اس پراپیگنڈے کی تردید میں بیان جاری کیا گیا ہے کہ مملکت میں کورونا ویکسین لگوانے کے باعث اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ البتہ ویکسین نہ لگوانے والے کورونا کا شکار ہو کر ضرور دُنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا تھا کہ مملکت میں کورونا وبا سے ہلاک ہونے والے 78 فیصد افراد کی عمریں 50 برس اور اس سے زیادہ ہیں۔‘ وزارت نے خبردار کیا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں کورونا کی تشخیص ہونے سے موت کا خطرہ چھ گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کے مریضوں میں اس موذی وائرس کے باعث صحت مند انسانوں کے مقابلے میں موت کے خطرات پانچ گنازیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح گردے کی خرابی والے مریضوں میں بھی کورونا سے ہلاکت کے خطرات خاصے زیادہ ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سعودیہ میں یہ پراپیگنڈہ شروع ہو گیا تھا کہ ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے لوگوں کو دوسری خوراک لگانے میں انتظار کروایا جا رہا ہے۔تاہم سعودی وزارت صحت نے سوشل میڈیا پر ان دعووٴں کو مسترد کیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو کورونا ویکسین کی دوسری خوراک کا انتظار کر رہے ہیں وہ کسی سائیڈ ایفکیٹ کے باعث نہیں دی جائے گی۔ وزارت صحت نے مقامی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو یقین دلایا تھا کہ تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی سطح پر فراہمی میں کمی کے باعث التوا کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کورونا ویکسین کی دستیابی کے بعد دوسری خوراک کے لئے شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں