233

صرف 7 منٹ کی حماقت نے اماراتی نوجوان کی جمع پونجی کا صفایا کروا دیا

اماراتی نوجوان نے فراڈیئے کو ایک بار انکار کیا، دوسری بار اس پر یقین کر کے اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ بتا دیا

متحدہ عرب امارات میں بینکنگ اور آن لائن فراڈ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔متحدہ عرب میں ایک اور ایسی ہی فراڈ کی واردات میں اماراتی نوجوان اپنی بڑی جمع پونجی گنوا تھا۔ صرف سات منٹ کی ایک کال نے اسے زندگی کا بڑا دھوکا دے دیا ہے جس کے بعد وہ ہاتھ مل مل کر پچھتا رہا ہے۔ اماراتی شہری راشد نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایک کال آئی جس میں دوسری جانب سے بندے نے خود کو اس کے بینک کا ملازم ظاہر کیا۔اس شخص کا کہنا تھا کہ بینک کی جانب سے تمام صارفین کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیاجا رہا ہے، اس مقصد کے لیے اس کا ڈیٹا بھی درکار ہے۔ پہلے تو اماراتی نوجوان کو لگا کہ یہ شخص فراڈ ہے۔ڈیلی گلف اُردو کے مطابق اس شخص نے اسے تنبیہ کی کہ اگر اس نے اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ نہ کروایا تو اس کا اکاؤنٹ بند ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری اسی پر ہوگی۔

وہ بینک کی جانب سے ہی بات کر رہا ہے۔راشد نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور اسے اپنے کچھ ذاتی کوائف بھی فراہم کر دیئے تاہم اسی دوران فراڈیئے شخص نے اس سے پاس ورڈ مانگا۔ راشد کو لگا کہ یہ شخص واقعی دھوکے باز ہے۔ اس نے پاس ورڈدینے سے انکار کیا تو اس شخص نے پھر وارننگ دی کہ پاس ورڈ فراہم نہ کرنے پر تصدیقی عمل یہیں رُک جائے گا اور اس کا اکاؤنٹ بلاک کر دیاجائے گا۔ یہ پاس ورڈ اس لیے مانگا جا رہا ہے کہ اکاؤنٹ کو نوسربازوں سے بچانے کے لیے پرانے پاس ورڈ کی جگہ نیا پاس ورڈ فراہم کیا جائے گا۔بالآخر راشد نے اس کی بات پر یقین کر کے پاس ورڈ فراہم کر دیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد اسے بینک کی جانب سے ایک میسج موصول ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم نکال لی گئی ہے۔ راشد نے یہ میسج پڑھ کر اپنا سر پکڑ لیا اور فوری طور پر بینک کو کال کی۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ فراڈیئے نے اپنا کام دکھا دیا تھا۔ اب راشد کو احساس ہوا تھا کہ وہ واقعی فراڈ کا نشانہ بن گیا ہے۔ اماراتی حکام نے کئی بار وارننگ جاری کی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی بینکنگ سے متعلق معلومات کسی بھی اجنبی کو فراہم نہ کرے، کوئی بھی بینک اپنے کسی صارف سے پاس ورڈ نہیں مانگتا ہے۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں