215

عمان میں مقیم پاکستانی کارکنان کو بُری خبر سُنا دی گئی

مقامی افراد کو ملازمتیں دینے کی پالیسی کے نتیجے میں 2 لاکھ 18 ہزار غیر ملکی واپس چلے گئے، آئندہ برسوں میں مزید غیر ملکی نکال دیئے جائیں گے

سعودی عرب کی جانب سے مقامی افراد کو ملازمتیں دینے کی پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ تین سالوں کے دوران دس لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کی نوکریاں ختم ہو چکی ہیں ۔ جن میں پاکستانی بھی لاکھوں کی گنتی میں ہیں ۔ عمان میں بھی اس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عمانی وزارت محنت نے بتایا ہے کہ عمان کے نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں اپنے شہریوں کو ملازمت دینے کی لیبر پالیسی کے نتیجے میں گذشتہ ایک سال کے دوران غیر ملکی کارکنوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔اُردو نیوز کے مطابق وزارت محنت کے ایک اعلی عہدیدار باسم بن محمد البلوشی نے بتایا ہے کہ وزارت کی جانب سے عمومی اور سرکاری شعبوں کے لئے عمانی شہریوں کو ملازمتیں فراہم کرنا وزارت محنت کی کوششوں کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ 12 ماہ کے عرصہ کے دوران تقریبا دو لاکھ اٹھارہ ہزار غیر ملکی کارکنان خلیجی ملک عمان سے واپس چلے گئے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر عمان میں اپنے شہریوں کے لیے لیبر قوت میں اضافے کے حکومتی اقدامات اور فیصلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔غیر ملکی کارکنوں کی عمان چھوڑکر جانے میں عالمی وبائی مرض کورونا وائرس بھی ایک عنصر تھا۔ جس کے باعث یہاں کاروباری سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ان میں خاص طور پر سیاحت سے وابستہ افراد شامل ہیں جب کہ کچھ تجارتی اداروں کی بندش کے باعث یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔باسم البلوشی کے مطابق یہ موجودہ معاشی حالت کی وجہ سے ہے اور وزارت محنت کی جانب سے اپنی قومی افرادی قوت کو دوبارہ آباد کرنے اور انہیں لیبر مارکیٹ میں جگہ دینے کی داخلی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔کچھ شعبوں جیسے فضائی، زمینی اور سمندری نقل و حمل میں عمانائزیشن کا عمل 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔علاوہ ازیں شہریوں کو روزگار فراہم کرنے کا عمل دیگر معاشی سرگرمیوں میں ابھی پیچھے ہے جیسا کہ سیاحت 10.9 فیصد اور خوراک مہیا کرنے کے اداروں میں یہ مقدار ابھی 5 فیصد تک محدود ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں