187

حرم مکی کے منبر پر قبضے کی کوشش ناکام بنانے والے سیکیورٹی اہلکار کی سعودی وزیر داخلہ سے ملاقات

شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سارجنٹ محمد الزہرانی کے بروقت اقدام کو سراہا اور ان کی فرض شناسی کے جذبے کی بھی تعریف کی

چند روز قبل مسجد الحرام میں نماز جمعہ کے خطبہ کے وقت اس وقت پریشان کُن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب ایک شخص نے بھاگ کر منبر پر چڑھنے کی کوشش کی تھی، تاہم منبر کے پاس کھڑے سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے منبر پر چڑھنے کے دوران دبوچ کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس نے بعد میں منتظر مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔امام کعبہ کے منبر کے دروازے پر تعینات جس سیکیورٹی گارڈ نے اس شرپسند شخص کی منبر تک پہنچنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسے دبوچ لیا تھا، وہ شخص اس وقت سعودی عوام کا نیا ہیرو بن گیا ہے۔ گذشتہ روزسعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے مسجد الحرام میں منبر کی طرف بڑھنے والے شخص کو روکنے والے سپاہی محمد الزہرانی کا اپنے دفتر میں استقبال کیا۔وزیر داخلہ نے الحرم سیکیورٹی کے اہلکارسارجنٹ محمد الزھرانی کی فرض شناسی اور بروقت کارروائی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس سیکیورٹی اہلکار کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق یہ کارنامہ انجام دینے والے سیکیورٹی اہلکار کا نام سارجنٹ محمد الزہرانی ہے۔ جو اپنی مستعدی اور بروقت کارروائی کے باعث سوشل میڈیا پر”سارجنٹ محمد الزہرانی ہمارے ہیرو ہیں“ کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ہیں۔ٹویٹر پر لوگوں کی جانب سے سارجنٹ الزہرانی کی تعریف میں قصائد اور شاباش کے کلمات کا انبار لگ گیا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں سارجنٹ الزہرانی کو سراہ رہا ہے۔ سارجنٹ الزہرانی سعودی عرب کے مشہور قبیلے الزہرانی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اس کارنامے پر الزہرانی قبیلہ بھی بہت فخر محسوس کر رکا ہے۔ ایک ٹویٹر صارف ڈاکٹر عبدالواحد الزہرانی نے کہا کہ قریہ مولغ کے عظیم سپوت ہمارے ہیرو ہیں جنہوں نے الزہرانی قبیلے کا نام مزید روشن کر دیا ہے۔خالد الزہرانی نام کے ٹویٹر صارف نے لکھا کہ الزہرانی میرے علاقے کے ہیں، ہمیں ان کے اس عظیم کام پر بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔ ٹویٹر صارفین کی جانب سے سعودی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سارجنٹ محمد الزہرانی کو اس کے شاندار کارنامے اعلیٰ اعزاز اور انعام سے نوازا جائے۔دوسری جانب پولیس نے منبر پر چڑھنے کی کوشش کرنے والے شرپسند کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر کی ہیں جن کے مطابق اس شخص کی عمر چالیس سال سے زائد ہے۔یہ اپنے ساتھ ایک لاٹھی بھی لایا تھا۔ تفتیش کے دوران اس نے اپنے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُمت مُسلمہ اُسی کا انتظار کر رہی ہے۔ ملزم کے خلاف اس سنگین حرکت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ذہنی صحت کی بھی جانچ کروائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے جلد مزید تفصیلات سامنے آجائیں گے۔ فی الحال اس شخص کا نام اور قومیت ظاہر نہیں کی گی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو شیخ بندربلیلہ خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔جب ایک شخص نے بھاگ کر منبر پر چڑھنے کی کوشش کی، وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو منبر پر چڑھنے سے روک دیا، الحرمین شریفین کے سوشل میڈیا اکاوٴنٹ کی جانب سے شیئرکردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شیخ بندربلیلہ مسجد الحرام میں خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ اچانک منبرکی جانب تیزی سے بھاگتا ہوا ایک شخص دکھائی دیتا ہے۔ یہ شخص جونہی منبر پرچڑھنے کیلئے دروازے کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکار اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور پکڑ لیتے ہیں ، لیکن یہ پھر بھی منبر پر چڑھنے کیلئے مزاحمت کرتا ہے، جس پر سکیورٹی اہلکار اس کو دبوچ کر نیچے گرا دیتے ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں