135

سعودیہ میں مقامی باشندوں کے نام پر کاروبار کرنے والے پاکستانی خبردار ہو جائیں

تجارتی پردہ پوشی میں ملوث افراد کو 23 اگست تک کی مہلت دی گئی ہے، اس کے بعد سخت سزائیں اور جرمانے ہوں گے

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو مقامی شہریوں کے نام کی آڑ کی اپنا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح کسی سعودی شہری کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنے نام سے کسی غیر ملکی کو کاروبار کرا کے بدلے میں اس سے رقم وصول کرے۔ اس غیر قانونی تجارتی سرگرمی کو ’تستر تجاری‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کے معنی تجارتی پردہ پوشی کے ہیں۔یعنی مقامی شہری اپنے نام سے کسی غیر ملکی کو کاروبار کراتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر اس تجارت کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ تاہم اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث غیر ملکیوں اور سعودی باشندوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔سعودی حکومت تجارتی پردہ پوشی میں ملوث افراد کو وارننگ جاری کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت تجارت اور قومی پروگرام برائے انسداد تجارتی پردہ پوشی کی جانب سے تجارتی پردہ پوشی میں ملوث افراد کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ وہ 23 اگست 2021ء تک دی گئی مہلت سے فائدہ اُٹھاکر تستر تجاری سے باز آ جائیں۔یہ مہلت ان کے لیے سزاؤں، جرمانے اور ڈی پورٹ سے بچنے کا آخری موقع ہے۔ اس مہلت کے دوران سعودی شہریوں اورتارکین کو متعدد اختیاری راستے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے ذیعے وہ معافی حاصل کر سکیں گے۔ مقررہ مہلت کے اندر معافی سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے خلاف 23 اگست سے کریک ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔ جنہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس جُرم میں 5 سال قید اور 50 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سعودیہ کے شہر حائل میں مقیم ایک پاکستانی نے اپنے افغانی ساتھی کے ساتھ ویڈیو بنائی تھی جس میں انہوں نے فخریہ انداز میں بتایا کہ ان کے ہاتھ میں جو 21 ہزار ریال موجود ہیں، یہ انہوں نے’تستر تجاری‘ یعنی مقامی باشندے کے نام پر کاروبار کر کے کمائے ہیں۔ ان کی یہ حماقت انہیں اس وقت لے ڈُوبی جب سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو پولیس کی نظر میں بھی آگئی۔حائل پولیس کے ترجمان طارق النصار نے بتایا کہ پاکستانی اور افغانی باشندے کو قانون انسداد تجارتی پردہ پوشی کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائرل ویڈیو کے بعد ان دونوں غیر ملکیوں کو وزارت تجارت کی خصوصی ٹیم کے ساتھ مل کر گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے 21 ہزار ریال کی وہ رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے جو انہوں نے ویڈیو میں دکھائی تھی۔انہوں نے بتایا کہ سعودی قانون کے تحت کسی غیر ملکی کو مقامی شہری کے نام پر کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دونوں افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف تجارتی پردہ پوشی کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ ملزما ن کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے غیر قانونی کاروبار سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کے جرائم پر تارکین وطن پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ان کے خرچے پر ان کے جُرم کی مقامی اخبارات میں تشہیر کروائی جاتی ہے اور پھر انہیں ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں