173

امارات کی جانب سے فضائی سفر پر پابندی نے پاکستانیوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا

پاکستان میں پھنسے ہزاروں ویزہ ہولڈرز کے ویزے عنقریب ایکسپائر ہونے والے ہے، ان کی واپسی مشکل ہو جائے گی

 یو اے ای نے گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت سمیت متعدد ممالک سے آنے والی مسافر پروازوں پر پابندی عائد کی تھی ، جس کی وجہ سے لاکھوں تارکین اپنے وطن میں ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جن کے ویزے ایکسپائر ہو گئے ہیں یااگلے چند روز میں ہو جائیں گے۔ ان پاکستانی ویزہ ہولڈر ز کی جانب سے اماراتی امیگریشن اتھارٹیز کو روزانہ سینکڑوں فون کالز کے ذریعے رابطہ کیا جا رہا ہے۔امیر کانٹریکٹ سنٹر کے ایک کسٹمر ہیپی نس ایگزیکٹو نے بتایا کہ اس وقت یو اے ای سے باہر پھنسے لوگوں کی بڑی گنتی میں کالز موصول ہو رہی ہیں جو بتا رہے ہیں کہ ان کے ویزے ایکسپائر ہو گئے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ یہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ فضائی سفر پر پابندی کے دوران کیا ایکسپائرڈ ویزوں کے حوالے سے اماراتی حکومت نے کوئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔فی الحال ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں۔ حکومت نے امارات سے باہر پھنسے لوگوں کے ویزوں کی خود کار تجدید کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ ہم ان ویزہ ہولڈرز سے کہیں گے کہ وہ فی الحال انتظار کریں ، پریشانی کے عالم میں اپنے ویزے منسوخ کروانے یا نئے انٹری پرمٹس کے حصول کے لیے فوری طور پر اپلائی نہ کریں۔“ڈیلی گلف اُردو کے مطابق پاکستانی شہری ناصر علی بھی تعطیلات پر پاکستان آیا اور اب یہیں پھنس کر رہ گیا ہے۔ناصر نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے طبیعت خراب ہونے پر پاکستان آیا تھا۔اس کے علاوہ عید بھی اپنے پیاروں کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔ مگر فلائٹس بند ہونے کی وجہ سے اب وہ یہیں پھنس کر رہ گیا ہے۔ اس کا ویزہ 10 جون کو ایکسپائر ہو جائے گا۔ وہ اس ساری صورت حال پر بہت پریشان ہے۔ کیونکہ ابھی فلائٹ آپریشنز پر سے پابندی ہٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔اگر جون کے پہلے ہفتے میں فلائٹ آپریشن بحال ہو بھی گیا تو پاکستان سے جانے والوں کا اتنا رش ہو گا کہ شاید اس کی 10 جون تک واپسی ممکن نہ ہو سکے۔ اگر اماراتی حکام اپنے وطن میں پھنسے ان ویزہ ہولڈرز کے ویزوں میں رعایتی اسکیم کے تحت تجدید دیتی ہے تو اس سے ہزاروں افراد کا بھلا ہو جائے گا۔ اس وقت بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک اور پاکستانی محمد زبیر نے بتایا کہ وہ بھی وطن میں پھنس کر رہے گئے ہیں۔انہوں نے دو سال کے وقفے کے بعد اپریل میں پاکستان کا سفر کیا تھا۔ تاکہ اپنے گھر والوں اور والدین کے پاس کچھ روز گزار سکیں اور ایک شادی بھی اٹینڈ کر سکیں۔ تاہم انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کئی ہفتوں تک یہیں پر پھنس کر رہ جائیں گے۔ زبیر کا ویزہ یکم جولائی کو ایکسپائر ہو رہا ہے۔امارات کے مشہور وکیل اور قانونی مشیر اشیش مہتا کا کہنا ہے کہ اس وقت امارات میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہے۔صرف کچھ ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ جس سے ان ممالک میں پھنسے کچھ ویزہ ہولڈرز کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ سال امارات کی جانب سے انٹری رولز میں نرمی کرتے ہوئے کئی رعایتیں دی گئی تھیں جن میں ویزوں میں کئی ماہ کی خودکار توسیع بھی شامل تھی۔ ہو سکتا ہے کہ اماراتی حکومت اگلے چند روز میں پابندی والے ممالک سے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہو۔ اس لیے ایکسپائرڈ ویزہ ہولڈرز کے لیے کسی رعایت کا اعلان نہ کیا گیا ہو۔ اگلے چند روز میں ہی صورت حال واضح ہو گی۔ لوگوں کو انتظار کرنا ہو گا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں