144

وزیراعلیٰ سندھ بتا سکتے ہیں کہ 18سال کے نوجوانوں کی لازمی شادی کا اطلاق بلاول بھٹو پر بھی ہو گا یا نہیں

18 سال کے نوجوانوں کی شادی سے متعلق بل پر فردوس عاشق اعوان کا دلچسپ تبصرہ

سندھ اسمبلی میں اٹھارہ سال کی عمر کے نوجوانوں کی شادی لازمی کروانے کے لیے والدین کو پابند کرنے کا بل لایا گیا ہے جو کہ سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر تنقید کی زد میں ہے۔اس بل  پر صوبائی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی دلچسپ تبصرہ کیے بغیر نہ رہ سکیں۔ سندھ اسمبلی میں 18 سال کے نوجوانوں کی شادی کے حوالے سے آنے والے بل پرایک صحافی کے سوال پر فردوس عاشق اعوان نے دلچسپ جواب دیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت نے نوجوانوں کے جذبات اور احساسات کی پاسداری کرتے ہوئے اس قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اس قانون کی زد میں کب آئیں گے یہ وزیراعلیٰ ہی بتاسکتے ہیں۔یاد رہے کہ سندھ میں 18 سال کے نوجوانوں کی لازمی شادی کرانے کا بل جمع کرادیا گیا، جس میں نوجوانوں کی شادی نہ کروانے والے والدین پر 500 روپے جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ایم پی اے ایم ایم اے سید عبدالرشید نے مسودہ قانون اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرایا۔بل 2صفحات پرمشتمل ہے جسے سندھ لازمی شادی ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا ہے، بل میں نوجوانوں کی شادی نہ کروانے والے والدین پر 500روپے جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت یقینی بنائے کہ والدین اپنے عاقل بچوں کی لازمی شادی کرائیں، اگر والدین تاخیرکرتے ہیں تو ڈپٹی کمشنرکوتحریری طورپرآگاہ کرناہوگا۔جبکہ اس بل کے حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی 18 سال کی عمر میں شادی کرانے سے متعلق بل کو بلڈوز کردے گی۔ بختاور بھٹو نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ 18 سال کی عمر میں شادی سے متعلق بل کا سندھ حکومت سے کوئی تعلق نہیں، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت اس بل کو بلڈوز کردے گی۔جبکہ اس بل پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تنقید کررہے ہیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں