92

’یہ کوئی ڈیرہ نہیں انصاف کی مقدس جگہ ہے‘ عدالت میں ٹاک ٹاک بنانے والا ساتھی سمیت گرفتار

سیشن کورٹ میں اقتدام قتل کیس کے ملزم کے ساتھیوں نے ٹک ٹک بنانی شروع کر دی ، پولیس نے گرفتار کر کے ایڈمن جج کے روبرو پیش کردیا ، معزز جج نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا

لاہور کی عدالت میں ٹاک ٹاک بنانے والے شخص کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اقدام قتل کیس میں پیشی پر آئے ملزم کے ساتھیوں نے ٹک ٹاک بنانی شروع کر دی ، جس پر سیشن کورٹ کی سکیورٹی پولیس نے ملزم رحمان علی کو گرفتار کر لیا اور سیکورٹی انچارج انسپکٹر مبشر اعوان نے ملزم کو ایڈمن جج امجد علی باجوہ کے روبرو پیش کیا۔عدالت میں پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزمان کا گروپ ٹک ٹاک بنا کر لوگوں کو ہراساں کر رہے تھے ، ملزم دیگر ساتھیوں کے ہمراہ احاطہ عدالت میں ٹک ٹاک بنا رہے تھے اور ملزمان کی گروپ بندی سے دیگر سائلین ہراساں ہوئے۔ جس کے بعد ایڈمن جج نے حکم دیا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ، یہ کوئی ڈیرہ نہیں انصاف کی مقدس جگہ ہے ، عدالتوں میں ٹک ٹاک بنانے یا لوگوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں ، ملزمان کو احاطہ عدالت میں اسلحہ لانے کی بھی ہرگز اجازت نہیں، عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے ملزم کو تفتیش کیلیے تھانہ اسلام پورہ منتقل کر دیا۔ چند روز قبل ہی صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یارخان میں لڑکی کو عدالت میں ٹک ٹاک بنانا مہنگا پڑ گیا تھا ، عدالت میں ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر وائرل کرنے پر لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، تفصیلات کے مطابق رحیم یارخان میں پولیس نے ایک لڑکی کے خلاف تھانہ سٹی اے ڈویژن میں مقدمہ درج کیا ہے جس نے عدالت میں ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر وائرل کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی تنسیخ نکاح کے مقدمے میں عدالت آئی تھی جہاں لڑکی نے چھپ کر سول جج فیملی ڈویژن کے کمرہ عدالت کی ویڈیو بنائی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے ویڈیو بنا کرعدالت کا وقار مجروح کیا، جس کی بناء پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جب کہ لڑکی کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں، جس کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں