213

KOC اور KIPIC نے تیس دنوں میں جابر پل پر واقع ڈرائیو تھرو ویکسینیشن سنٹر تیار کر لیا

 “کویت آئل کمپنی KOC اور “کیپیک ” KIPIC نے قلیل مدت میں اعلیٰ طرز کا انفراسٹرکچر مکمل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کویت آئل کمپنی اور کویت “کے او سی” انٹیگریٹڈ پٹرولیم انڈسٹریز کمپنی “کیپیک” کے مربوط انفراسٹرکچر کی تعمیر میں ایک ماہ سے بھی کم وقت لگا۔ دونوں کمپنیوں کے مشترکہ تعاون سے جابر برج کے ویکسی نیشن مرکز کو تکمیل کے بعد وزارت صحت کے حوالے کردیا گیا۔ اس مرکز کی تعمیر کا کام کویت آئل کمپنی اور کویت انٹیگریٹڈ پٹرولیم انڈسٹریز کمپنی کے مابین باہمی تعاون سے کیا گیا۔ اس اعلی انفراسٹرکچر ، اسکی سہولیات اور سروس نیٹ ورک کی تشکیل کے لئے چوبیس گھنٹے کام کیا گیا اور اسے ایک اعلی معیاری طریقہ کار اور تکنیکی اور صحت سے متعلق تفصیلات کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ مرکزشیخ جابر پل کے جنوبی جزیرے میں واقع مرکز کو اپنے زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس مرکز کا کم سے کم وقت میں مکمل ہونا اور تمام ضروریات کو پورا کرنا کمپنی اور تیل کے شعبے کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے خاص طور پر چونکہ اس خطے میں کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا لہٰذا اس ڈھانچے کی تعمیر بنیاد سے ہی کی گئی ہے جبکہ اس میں استعمال ہونے والے مادوں کی بہت بڑی مقدار اور اور اس کی فراہمی اور پروسیسنگ کے کاموں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ویکسی نیشن سنٹر ملک کا پہلا ویکسی نیشن سنٹر ہے جو کویت میں ڈرائیو تھرو نظام کے ساتھ چل رہا ہے اور اس کی گنجائش 45 ہزار مربع میٹر ہے ، جس میں روزانہ تقریبا پانچ ہزار گاڑیوں کی ہے۔ اس تعمیراتی کام میں طبی عملے کی خدمت کے لئے 18 کیبنز کا قیام ، فارمیسیوں ، میڈیکل اسٹورز ، فائر اسٹیشنوں ، ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مراکز ، ایمبولینس ڈپارٹمنٹ ، اور وزارت داخلہ کی خدمات بھی شامل ہیں۔ مساجد اور بیت الخلاء کے علاوہ مرکز میں 20 کیبنز بھی شامل ہیں جو دو ریستورانوں کی سہولیات فراہم کر رہیں ہیں۔

مرکز کو روزانہ 5 ہزار گاڑیوں کے ہدف کی گنجائش سے کام کرنے کی اجازت دی گئی اور خصوصی کوڈ تیار کیے گئے جو ٹریفک کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور بھیڑ سے بچنے کے لئے مطلوبہ کیبن سے وابستہ رنگوں کا سراغ لگانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ چوتھے ، پانچویں اور چھٹی رِنگ روڈوں پر زمینی نشانات اور ہدایات بھی لگائی گئیں ہیں تاکہ ویکسین لگوانے والے بآسانی مرکز تک پہنچ سکیں ۔ اس پراجیکٹ میں کمپنی کو سب سے بڑا چیلنج جس کا سامنا کرنا پڑا اس میں بنیادی ڈھانچے کی عدم فراہمی تھی لہٰذا ایک ایسا انفراسٹرکچر قائم کرنا ضروری تھا جس میں سیوریج نیٹ ورک ، مواصلات ، انٹرنیٹ ، پانی اور بجلی ، مرکزی اور ذیلی ادارے شامل ہوں۔ 100 سے زیادہ کھجور کے درخت لگانے سمیت مرکز کو خوبصورت بنانے کے علاوہ ایک سروس اسٹیشن جس کو 40 ہزار گیلن سے زیادہ پانی کے ٹینکوں کی فراہمی کی گئی تاکہ گند نکاسی کے نیٹ ورک کو پانی مہیا کیا جاسکے۔

ویکسی نیشن کیبن کے لئے 3500 مربع میٹر کے رقبے پر 108 چھتریاں بھی قائم کی گئیں ہیں تاکہ ویکسی نیشن کے دوران مناسب ماحول فراہم کیا جاسکے اور موسم اور سورج کی روشنی سے حفاظت کی جاسکے۔ اس مرکز میں جو مکمل طور پر 30 دن سے زیادہ کی ریکارڈ مدت میں تعمیر کیا گیا ہے اس کمپنی نے 21،000 مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل بڑی تعداد میں لیبر کا استعمال کیا تھا جب کہ چوبیس گھنٹے کام جاری تھا۔

وزارت صحت کی خصوصیات اور تقاضوں کے مطابق اس مرکز میں 500 سے زائد فرنیچر ، بجلی کے سازوسامان وغیرہ کی پوری طرح سے سہولت دی گئی ہے جس میں ہر ایک کیبن کی لمبائی 12 میٹر اور چوڑائی 3 میٹر ہے اور یہ سب بیت الخلا ، بجلی ، ائر کنڈیشنگ اور صاف پانی سے لیس ہیں۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں