230

کویت میں خود کُشی کی کوشش کرنے والی فلپائنی ملازمہ کو 9 ماہ بعد کوما سے ہوش آ گیا

گھریلو خادمہ کے مطابق کویتی مالکن دو سال سے شدید تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی ، گھر میں قید کر رکھا تھا

خلیجی ملک کویت میں گزشتہ کئی سالوں سے مقامی افراد کی جانب سے غیر ملکی خادماؤں کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی ہراسگی و زیادتی کے معاملات سامنے آر ہے ہیں۔ ایک ایسا ہی تازہ ترین لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک فلپائنی خادمہ نے ٹوائلٹ کلیننگ لیکوڈ پی لیا تھا۔ اس زہر یلے تیزاب کے پینے سے یہ 26 سالہ خاتون کومے میں چلی گئی تھی۔بالآخر اس خادمہ کو ہوش آ گیا ہے جس نے پولیس کے سامنے بیان دیا ہے کہ اس نے خود کُشی کی کوشش بہت زیادہ جبر اور استحصال سہنے کے بعد کی ہے۔ خادمہ کے مطابق اس کی عرب مالکن نے اسے گزشتہ دو سال سے زبردستی گھر میں قید کر رکھا تھا اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بھی بناتی تھی۔ جس کی وجہ سے اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے ٹوائلٹ صاف کرنے والا تیزاب پی لیا ۔جب اس کی حالت بگڑی تو مجبوراً مالکن نے اسے کویتی ہاسپٹل بھجوا دیا۔ یہ خادمہ 9 ماہ تک کوما میں رہی۔ جب اس کی حالت سنبھل گئی تو پولیس کی تحقیقاتی ٹیم اس کے پاس گئی اور خود کُشی کی وجہ دریافت کی۔ ملازمہ نے بتایا کہ اس کی مالکہ ایک پرائیویٹ میڈیکل سنٹر میں ملازمت کرتی ہے۔ اس ظالم مالکن نے اسے گھر پر قید کر رکھا تھا اور اکثر مار پیٹ کا نشانہ بناتی رہتی تھی۔اس نے کئی بار مالکن کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی،مگر اس کوشش میں کبھی کامیاب نہ ہو سکی۔ بالآخر اس نے زندگی سے تنگ آکر انتہائی اقدام کا فیصلہ کیا۔ پولیس نے ملازمہ کے انکشافات سُننے کے بعد اس کی مالکہ کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کویت میں ایک فلپائنی خادمہ کی خود کُشی کی خبر بھی سامنے آئی تھی تاہم بعد میں پتا چلا کہ اسے اس کی مالکن نے قتل کیا ہے۔اس واقعے کے فلپائن میں سخت احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ فلپائنی حکومت نے گھریلو خادماؤں کو کویت بھیجنے پر پابندی بھی عائد کر دی تھی۔ بعد میں کویتی عدالت کی جانب سے فلپائنی خادمہ کو انصاف دلانے کی خاطر ملزمہ کو سخت سزا سُنائی گئی تھی۔ جس کے بعد فلپائنی حکومت نے دوبارہ کویت میں گھریلو خادمائیں بھیجنا شروع کر دی تھیں۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں