103

ہم مغرب کے غلام

ریحان سردار

سوچوں کے بدلنے سے نکلتا ہے نیا دن

سورج کے چمکنے کو سویرا نہیں کہتے

افسوس ہائے افسوس!

                                      کس قدر اندوہناک معاملہ ہے ۔

کہ ہماری قوم و ملت کا ہر فرد مغرب کی تہذیب اور ثقافت کے سائے تلے اپنی زندگی بسر کرنے لگا ، اگر وہ نوجوان ہے تو وہ اپنا سر جھکائے انکے طور طریقے کی پیروی کرنے لگا، اگر وہ مرد ہے تو وہ اسکے نظریات کو اسلام کے روپ میں پیش کرنے لگا ، اگر وہ عورت ہے تووہ بے حیائی کو اپنی زینت کا لباس سمجھنے لگی اور یہ تعلیم یافتہ اپنی ہی تاریخ سے چشم پوش بن گئے یہ اصلاح اور رہنمائی کےعلمبردار بھی مغرب کی سوچ کے سامنے اپنے جھنڈے گِرا بیٹھے ۔ یہ دانائی اور عقل کے پیکر بھی مغرب کے باطل نظریئے کے سامنے ناسمجھ اور بے وقوف بن بیٹھے یہ عد ل و انصاف قائم کرنے کے دعویدار بھی غیروں کے قوانین کے آگے سرنگوں ہو بیٹھے ۔ یہ دین و شریعت کو ڈھنکے کی چوٹ پر پیش کرنے والے منظر عام سے اوجھل ہو بیٹھے ۔

          اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں زمین و آسمان ہے کہ قلب خون کے اشک بہاتا ہے کہ ہماری قوم اسلا م و دین کی روح سے خالی ہو گئی ہمارے معاشرے میں اتحاد کی دھجیاں اُڑادی گئیں ہمارے ارادے اضمحلال کا شکار بن گئے ہماری نیتیں فساد اور کھوٹ کی زنجیروں میں جکڑی گئیں ہمارے بلند عزائم پستیوں کے نام ہو گئے ہمارے اہداف بے نشاں ہو گئے ہماری مثال کٹی پتنگ کی سی بن گئی جس کی نہ کوئی منزل ہو نہ کوئی غایت۔

          ایک طویل عرصہ سے مغرب اپنی تہذیب کے تخم ہماری افکار کی سرزمین میں بو رہا تھا اور اپنی ثفاقت کا جال ہمارے نظریات کی حد بندی میں چھپکے سے بچھا رہا تھا اور اس میں شب وروز گزرتے رہے اور ہم غفلت کی نیند سوتے رہے یہاں تک اس کی تہذیب کے بوئے تخم ہماری افکار کی سر زمین میں سر سبز و شاداب کھیتی بن کر لہلہانے لگے اور اپنی ثقافت کے جال میں ہماری نظریات کو قید کر لیا حتیٰ کہ ہم اپنی لگامیں انہی کے ہاتھوں دے بیٹھے۔

 آج ہم کو اس غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ہو گا اور اپنے اعتماد و بھروسے کی بیساکھیوں کے سہارے قدم اٹھانے ہونگے تاکہ اس فکری اور نظریاتی جنگ کا مقابلہ کیا جاسکے اس کے لیے ہمیں ایسے رہنماؤں کی تلاش ہے جو نہ کہ قانونی ڈھانچہ اور مادی ساز و سامان پیش کریں بلکہ ایک ایسا نظریہ جو ذمہ داری کا احسا س پیدا کرے جو آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ وہ اپنی اندرونی تحریک سے مثبت کام کرنے پر مجبور کرے اور ایسی سنجیدہ فکر جو غیروں کی افکار کو پسِ پشت ڈال دے ۔ ہمیں آج اپنی قدرو قیمت کو پہچاننا ہو گا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر دنیا میں اپنا لوہا منوانا ہو گا اور سب کو اپنے طور طریقے سے متعارف کروانا ہو گا ۔          اگر ہم مغرب کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اس نے کائنات کا راز منکشف کیے اور طبعی طاقتوں کو اپنا غلام بنایا، اس نے سمندروں اور فضاؤں پر فرمانروائی حاصل کی ۔ لیکن وہ اپنے خواہشات اور نفس پر قابوحاصل نہ کر سکا ۔ اس کائنات کے عقدے حل کیے لیکن اپنی پہلی بوُجھ نہ سکا، اس نے منتشر اجزا ءاورطبعی طاقتوں میں نظم و ترتیب قائم کی اور اس نے مادی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا لیکن و ہ اپنی زندگی کا انتشار دور کر نہ سکا ۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں