186

پاکستان چھُٹی پر آئے کارکنان اقامہ اور خروج وعودہ ایک ساتھ ایکسپائر ہونے پر کیا کریں؟

جوازات کے مطابق مملکت سے باہر موجود تارکین کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مُدت میں توسیع آجر ’ابشر‘ یا ’مقیم‘ پورٹل کے ذریعے کر سکتے ہیں

اس وقت ہزاروں پاکستانی تارکین سعودی عرب واپسی کے منتظر ہیں مگر فضائی سفر پر پابندی کی وجہ سے انہیں فی الحال واپسی کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ صورت حال پاکستانی کارکنان کے لیے بہت پریشان کُن ہے۔ اُردو نیوز کے مطابق اس حوالے سے ایک پاکستانی نے سعودی محکمہ پاسپورٹ و امیگریشن (جوازات) سے پوچھا ہے کہ وہ ان دنوں پاکستان میں ہے۔اس کے خروج و عودہ اور اقامہ کی تاریخ ختم ہونے والی ہے جبکہ اقامہ کی ایکسپائری خروج وعودہ کی تاریخ سے پانچ دن بعد کی ہے۔اقامہ اور خروج وعودہ کی تاریخ میں توسیع کس طرح ممکن ہے۔ کیا پہلے خروج وعودہ کی مدت میں اضافہ ہوگا یا اقامہ کی۔ اضافے کا طریقہ کار کیا ہو گا، کیا حکومت کی جانب سے ان ممالک کے لیے جن پر سفری پابندیاں عائد ہیں یعنی وہ ممالک جہاں کورونا کے نئے کیسز کی وجہ سے مسافروں کے آنے پر پابندی ہے کوئی رعایت دی گئی ہے؟اس کے جواب میں جوازات میں بتایا گیا ہے کہ فضائی پابندی واے ممالک سے مسافروں کی واپسی سرکاری سطح پرباقاعدہ اعلان کے بعد ہی ہو سکے گی۔جہاں تک اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کا سوال ہے تو حکومت کی جانب سے مملکت سے باہر گئے ہوئے تارکین کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے اختیاری طریقہ کار جاری کیا جاچکا ہے جس سے استفادہ کرکے آجر اپنے کارکنوں کے اقاموں اورخروج وعودہ کی مدت میں ’ابشر‘ یا ’مقیم ‘ پورٹل سے توسیع کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ خروج وعودہ کی مدت اقامہ کی ایکسپائری تاریخ سے مشروط ہوتی ہے۔اگر کسی کارکن کا اقامہ ایکسپائرہو گیا ہو تو پہلے اقامہ کی فیس ادا کرکے اس کی تجدید کی جائے اس کے بعد خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کرائی جائے۔ کارکن کے اقامہ یا خروج وعودہ کی مدت میں توسیع آجر کے ’ابشر‘ یا مقیم پورٹل سے ہی ممکن ہو گی جس کے لیے مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد ’تجدید‘ کی کمانڈ دی جائے بعدازاں خروج وعودہ کی مدت میں اضافہ کے لیے مطلوبہ ماہ کی فیس ادا کرنے کے بعد توسیع حاصل کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کورونا وائرس کی وجہ سے حکومتی سطح پر بیرون ملک گئے ہوئے تارکین کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کا اختیار ’آجر‘ کو دیا گیا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ مقررہ فیس ادا کی جائے۔ مقررہ فیس کی ادائیگی کے بغیر اقامہ یا خروج وعودہ کی مدت میں توسیع نہیں کرائی جا سکتی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ فیس ادا کرنے کے بعد خروج وعودہ کے لیے مطلوبہ مدت درج کرکے ابشراکاوٴنٹ کے ذریعے توسیع کی کمانڈ دی جائے۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں