111

اماراتی حکومت نے شہریوں اور تارکین پر پٹرول بم گرادیا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں8 فلس اور 9 فلس کا اضافہ کر دیا گیا ہے

متحدہ عرب امارات میں کورونا وبا کے باعث اگرچہ معاشی سرگرمیاں خاصی حد تک بحال ہو گئی ہیں، تاہم ابھی تک لاکھوں افراد کئی ماہ کی معاشی پریشانی سے باہر نہیں نکل پائے۔ ہزاروں افراد بے روزگار ہیں اور کئی افراد کی تنخواہوں میں کمی کر دی گئی ہے۔اگرچہ کئی ماہ تک اماراتی حکومت نے لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا، جس کا مقصد لوگوں کو ریلیف دینا تھا ، تاہم اب تجارتی و کاروباری سرگرمیاں خاصی حد تک بحال ہونے کے بعد اماراتی حکام نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔اماراتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ سال 2021کے چھٹے مہینے یعنی جون کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔

نئی قیمتوں کے بعد اب جون کے مہینے میں سپر 98 پیٹرو ل8 فلس فی لیٹر کا اضافہ ہو گیا ہے، جس کی نئی قیمت 2.38 درہم مقرر کی گئی ہے۔مئی کے لیے اس کی قیمت 2.30 لیٹرتھی۔ جبکہ 95 پیٹرو ل کی قیمت میں بھی 9 فلس کا اضافہ ہو گیا ہے، اب اس کی جون میں نئی قیمت 2.27 درہم ہو گئی ہے۔مئی کے دوران اس پیٹرول کی قیمت 2.18 درہم مقرر کی گئی تھی۔ جبکہ اے پلس 91 کی قیمت میں 8 فلس کا اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ جون کے مہینے میں 2.19 درہم میں دستیاب ہو گا۔ اس کی مئی کے لیے قیمت 2.11 درہم تھی۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی13 فلس کا اضافہ ہو گیا ہے۔ جون میں اس کی قیمت 2.30 درہم ہو گی۔ جو کہ اس وقت 2.17 درہم فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ روا ں سال مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا گیا تھا، اس سے پہلے گزشتہ سال مسلسل کئی ماہ مئی، جون ، جولائی ، اگست ، ستمبر، اکتوبر ، نومبر اور دسمبر کے بعد جنوری اور فروری میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر دُبئی میں مقیم ایک پاکستانی تارک وطن کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے باعث لاکھوں تارکین بے روزگار ہو چکے ہیں، یا پھر ان کی تنخواہوں میں کمی کی جا چکی ہے۔اگرچہ اماراتی حکومت کی مہربانی ہے کہ اس نے کئی ماہ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔تاہم موجودہ معاشی بحران کو دیکھتے ہوئے ضروری تھا کہ اس بار بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا۔ اس سے تارکین وطن پرٹرانسپورٹ اخراجات کی مد میں اضافی بوجھ پڑے گا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں