191

امارات میں سمندر میں ڈوب جانے کے دوواقعات،غیر ملکی خاتون اور کم سن لڑکا جاں بحق

اُم القوین میں بھارتی خاتون ڈوب گئی، بچی کو بچا لیا گیا، راس الخیمہ میں 17 سالہ اماراتی لڑکا ڈوب گیا

 یو اے ای میں موسم گرم کے دوران ساحل سمندر پر آنے والوں کا رش بہت بڑھ جاتا ہے۔ اکثر لوگ بے احتیاطی کرتے ہوئے گہرے پانی میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے امارات میں ہر سال درجنوں اموات ہوتی ہیں۔ اگرچہ ساحلی مقامات پر لائف گارڈز بھی تعینات ہوتے ہیں، تاہم لوگوں کے رش کی وجہ سے کئی بار ان کی جان بچانے میں دیر ہو جاتی ہے۔ایک ہی روز میں دو افراد کے ڈوبنے کے تازہ واقعات پیش آئے ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق 49 سالہ بھارتی شہری اپنی 32 سالہ بیوی ، بیٹے اور چار سالہ بیٹی کے ہمراہ اُم القوین کے البیت متواحد ساحل پر تفریح منانے آیا تھا۔ صبح سات بجے آنے والا یہ غیر ملکی جوڑا دو گھنٹے تک ساحل پر بیٹھا تفریح کرتا رہا۔ تاہم نو بجے کے قریب بھارتی خاوند اپنے بیوی بچوں کو لے کر سمندر کی جانب چلا گیا۔

 اسی دوران یہ خاندان سمندر کی تیز لہروں کی زد میں آ گیا۔ بھارتی خاوند نے بیوی اور بیٹی کو مشکل میں دیکھ کر جان بچانے کی کوشش کی تاہم ناکامی پر وہ فوراً کنارے پر آیا اور وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ اس کی بیوی اور بیٹی ڈوب رہی ہے۔ ساحل پر کچھ تیراک فوری طور پر سمندر میں اُتر گئے اوربھارتی خاتون کی بیٹی اور بیوی کو پانی سے باہر نکال لیا۔تاہم بھارتی خاتون کی حالت بہت خراب تھی، جو تھوڑی دیر بعد وفات پا گئی۔ تاہم اس کی بیٹی کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔راس الخیمہ کے ساحلی علاقے Rams میں بھی ایک اماراتی نوجوان پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا ہے۔ 17 سالہ عبدالعزیز مروان الشیحی 9 ویں گریڈ کا طالب علم تھا جو اپنے چچا اور کزنز کے ہمراہ سمندر میں نہا رہا تھا جب اچانک سمندر کی لہروں میں شدت پیدا ہوئی۔بدقسمت نوجوان عبدالعزیز کے چچا عبداللہ محمد الشیحی نے بتایا کہ باقی سب لوگ تو کنارے پر واپس پہنچ گئے مگر عبدالعزیز سمندر میں ہی ڈوب گیا۔کوسٹ گارڈز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عبدالعزیز کو پانی سے نکال لیا تھا، تاہم اس میں زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ سقر ہسپتال پہنچنے پر اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی ۔اُم القوین کے کمپری ہینسو پولیس سنٹرز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر خلیفہ سالم الشمسی نے لوگوں سے کہا کہ وہ ساحل سمندر پر تفریح کے وقت گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں۔ سمندر میں تیراکی کرتے وقت لائف سیونگ جیکٹ لازمی پہنیں۔ والدین اپنے بچوں پر ہر لمحے دھیان رکھیں۔معمولی سی غفلت بھی بڑے صدمے کاسبب بن سکتی ہے۔ 

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں