54

سعودیہ میں شادی ہال پر پولیس کا چھاپہ، کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 40افراد گرفتار

شادی ہال کی انتظامیہ کے علاوہ شرکاء کو بھی ماسک نہ پہننے،مقررہ تعداد سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے جیسی خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں

شادی بیاہ کی تقریبات انتہائی خوشی کا موقع ہوتی ہیں۔ جب تمام افراد خصوصاً خواتین اپنے بہترین کپڑے پہنتی ہیں۔ مہنگے پارلرز سے تیار ہوتی ہیں اور اپنے شوہروں کا خوب خرچہ کروا کر زیورات سے لدی پھندی نظر آتی ہیں۔ اپنے کسی عزیز یا عزیزہ کی شادی پر سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوتے ہیں۔ تاہم سعودیہ میں ایک شادی کی تقریب میں اس وقت رونا پیٹنا شروع ہو گیا جب پولیس نے شادی ہال پر دھاوا بول کر وہاں موجود40مردوں اور خواتین کو گرفتار کر لیا۔ان خواتین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خوشی کا یہ موقع ان کو بہت بھاری پڑ جائے گا۔ ان کی تمام تیاریاں اور میک اپ غم کے آنسوؤں میں بہہ جائے گا۔ انہیں پولیس اسٹیشن جانے کی شرمندگی بھی اُٹھانی پڑے گی اور ہزاروں ریال کا جرمانہ الگ سے ادا کرنا ہوگا۔

سعودی میڈیا کے مطابق قصیم پولیس نے ایک شادی ہال میں موجود 40 خواتین اور مردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔حالانکہ کورونا وبا کے دوران سماجی تقریبات میں 20 سے زائد افراد کی شرکت پر پابندی ہے۔ البدائع کمشنری کے اس شادی ہال میں شریک افراد نے ماسک بھی نہیں پہن رکھے تھے اور سماجی فاصلے کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق شادی ہال کی انتظامیہ پر بھی جرمانہ عائد ہو گا جبکہ گرفتار کیے گئے شرکاء کو بھی جرمانے کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل بھی جازان پولیس نے احد المسارعہ کمشنری میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے والی 109 خواتین کو گرفتار کر لیا تھا۔ان خواتین کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی وجہ سے حراست میں لیا گیاتھا۔ پولیس کے ترجمان نایف عبدالرحمن حکمی نے بتایا کہ ایک شادی ہال میں شادی کی تقریب منعقد کر کے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اُڑائی جا رہی تھیں۔ سعودی مملکت میں کورونا وبا کے باعث تمام تقریبات اور اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود سینکڑوں افراد پر مشتمل اس شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔حکومت کی جانب سے واضح طور احکامات ہیں کہ شادی کی تقریب دس بیس قریبی لوگوں تک ہی محدود رہ سکتی ہے۔ تاہم اس شادی ہال میں 109 خواتین جمع تھیں۔ انہوں نے ماسک بھی نہیں پہن رکھے تھے اور سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق حراست میں لی گئی خواتین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جبکہ شادی تقریب کے میزبان، مہمان اور شادی ہال کے منتظم کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ان افراد پرفی کس 5 ہزار درہم کے حساب سے بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ درجنوں خواتین کا شادی کے لیے اجتماع کورونا کے موذی مرض کو کھُلی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس معاملے میں کسی سے بھی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی جازان کی الدرب کمشنری میں شادی کی ایک تقریب میں شریک 121 خواتین کو گرفتار کر کے ان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں