79

سعودی عرب میں موسم کی غیر سرکاری پیش گوئی کرنے والے کوسخت سزا ملے گی

یہ پابندی چھ ماہ کے لیے نافذ ہو گی، خلاف ورزی پر 10 سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ ہوگا

سعودی عرب میں کسی بھی عام شہری، تارک وطن یاپرائیویٹ ادارے کو موسم کے بارے میں پیش گوئی کرنے پر سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی قومی مرکز برائے موسمیات نے موسم کے بارے میں غیر سرکاری پیش گوئی کرنے پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ انہیں قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اُردو نیوز کے مطابق مملکت کے بیورو آف انویسٹی گیشن اینڈ پبلک پراسیکیوشن نے اعلان کیا ہے کہ نئے ضابطے موسمیات اور آب و ہوا کے حالات کی پیشن گوئی کرنا قومی موسمیات سے باہر کسی بھی فرد یا تنظیم کے لیے غیر قانونی بنائیں گے۔ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 10 سال تک کی قید اور زیادہ سے زیادہ 2 ملین ریال کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ایک ٹویٹ میں بیورو نے کہا ’موسمی سرگرمیوں، مصنوعات اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات سے متعلق خودمختار موسمیاتی خدمات انجام دینے سے منع کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ متعلقہ ہے وہ مرکز برائے موسمیات تک ہی محدود ہے۔‘سعودی موسمیات کے قومی مرکز کے ترجمان حسین القحطانی نے بتایا کہ یہ پابندی چھ ماہ کے وقت میں نافذ العمل ہو گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کے موسمیاتی نظام کی جانچ پڑتال بہت مدت سے درکار رہی ہے کیونکہ اس میں مربوط فریم ورک کی کمی ہے۔ ’یہ ایک آپریشنل اور قانون سازی کا نظام ہے جو محکمہ موسمیات کے کاموں کی ترقی کے لیے زیادہ جگہ فراہم کرتا ہے جو لوگوں کی جان ومال کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔‘حسین القحطان نے نوٹ کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں اس تنظیم نو کے پروگراموں کے مطابق تھیں جو اس وقت پوری ریاست میں دوسرے شعبوں میں رونما ہو رہے ہیں۔نئے قواعد میں کسی بھی غیر مجاز شخص کو موسم اور آب و ہوا کے حالات کی پیش گوئی کرنے یا انتباہ جاری کرنے سے منع کیا جائے گا اور اس کا مقصد مالی فائدہ کے حصول میں کی جانے والی غلط پیش گوئیوں کو روکنا ہے۔

ذرائع: اردو پوائنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں